قرآن مجید کے اس واضح حکم کی عملی طور پر اتباع کرنے کا اب بھی دعویٰ کرتے ہیں تو میری طرف سے مباہلے کا چیلنج قبول کریں اور عمل سے دنیا پر اپنی حقانیت ثابت کریں۔ ورنہ ان کے وظیفہ خواروں یا خوشامدیوں کا الفضل کے صفحات پر سیاہی بکھیرنے سے اہل خرد کے سامنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنا ناممکن ہے۔
اپنے مریدوں پر جبر شاطر سیاست کے نزدیک جماعت کا اندرونی مسئلہ ہے اور وہ جو چاہیں کریں۔ لیکن بیرونی دنیا کے ساتھ ان کا جو مسلک ہے وہ ملاحظہ فرمائیے: ’’خداتعالیٰ نے آپ (مرزاغلام احمد قادیانی) کا نام عیسیٰ رکھا تاکہ عیسیٰ کو تو یہودیوں نے سولی پر لٹکایا تھا۔مگر آپ اس زمانے کے یہودی صفت لوگوں (یعنی مسلمانوں) کو سولی پر لٹکائیں۔‘‘ (تقدیر الٰہی ص۱۲۹)
یعنی مرزاغلام احمد کی آمد کا مقصد بیان کرتے ہوئے آمریت مآب فرماتے ہیں کہ ان کی آمد کا مقصد یہ ہے کہ یہ مسلمان جو یہودی صفت میں (نعوذ باﷲ) ان کو سولی پر چڑھائیں۔ سبحان اﷲ! کتنی معرفت کی بات ہے۔ ایک طرف تو یہ کہا جاتا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی آمد کا مقصد تجدید دین اور اشاعت اسلام ہے اور دوسری طرف ان کی آمد کا مقصد یہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی بعثت کی غرض وغایت شمع رسالتﷺ کے پروانوں کو سولی پر چڑھانا ہے۔ کیا کسی گروہ کو سولی پر چڑھانا اکراہ نہیں؟ اگر کسی گروہ پر ظلم وستم کرنا جبر ہے تو پھر میاں صاحب یہ دعویٰ کیسے کرتے ہیں کہ وہ دین میں جبر کو قطعاً ناروا اور ناجائز سمجھتے ہیں۔ اگر ان کا یہ دعویٰ صداقت پر مبنی ہے تو جب تک وہ قادیان رہے۔ انہوں نے وہاں اپنے مخالفین پر جورواستبداد کا وسیع باب کیوں وا کئے رکھا اور پھر اب جب کہ ربوہ ان کا مرکز ہے تو کیا وجہ ہے کہ ربوہ میں دوسری کوئی جماعت نہ دفتر کھول سکتی ہے اور نہ ہی وہاں جلسہ کر سکتی ہے۔ دور حاضر کا یہ عظیم سیاسی شطرنج باز ایک طرف تو آہ وبکا اور نالہ وشیون سے کہرام مچا دیتا ہے کہ دیکھو روس میں مذہبی نشر واشاعت کی آزادی نہیں ہے اور دوسری طرف اس کا اپنا عمل اس کے اپنے قول وافکار کی صریحاً نفی ہے۔ چنانچہ شاطر اعظم کے ایک مرید نے عدالت میں جو بیان دیا وہ ملاحظہ ہو۔ ’’مذہبی عقیدہ ہے کہ قادیان میں کوئی غیر احمدی (مسلمان) نہیں رہ سکتا۔‘‘ (بیان ماسٹر غلام محمد بی۔اے بعدالت جناب لالہ اقبال رائے مجسٹریٹ درجہ اوّل)
اب اگر روس کے رباب بست وکشاد کسی دوسرے ملک یا کسی دوسری جماعت کو اپنے ملک میں مذہبی نشر واشاعت کی اجازت نہیں دیتے تو اس پر امام جماعت ربوہ کو کیا اعتراض ہے؟ اگر ان کے اپنے گھر میں مذہبی آزادی ہو اور وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کر سکتے ہوں کہ ان کے ہاں مذہبی آزادی ہے تو پھر وہ روس پر اعتراض کرتے۔ بھلے معلوم ہوں گے۔ لیکن ان کا اپنا عمل جس