میں تھی کہ میں خلافت مآب کے مرید ہونے کا اقرار کر لیتا۔ سو جاہلیت کے اس زمانے میں مجھے ہر طرح سے جبراً حضور کی اطاعت گذاری کے لئے مجبور کیا جاتا رہا۔
اس واقعہ کے علاوہ بعض واقعات بڑے سنگین اور لرزہ خیز ہیں جن کے اظہار کے لئے دل بیتاب ہے اور قلم مضطرب اور وہ واقعات ایسے ہیں کہ جنہیں اگر میں بیان کروں تو ہر سننے والا دانتوں میں انگلیاں داب لے اور اس کی آنکھیں ساون کی گھٹا کر طرح برسیں۔ لیکن ابھی ان واقعات کو منظر عام پر لانے کا وقت نہیں۔ اگر حالات نے اجازت دی تو قارئین سے وعدہ کرتا ہوں کہ ان واقعات سے ضرور نقاب کشائی کروں گا۔ اپنے بیان کے علاوہ چند اور واقعات ملاحظہ فرمائیے۔
راجہ بشیر احمد رازی میرے بہنوئی ہیں۔ جب انہوں نے خلافت مآب سے عدم وابستگی کا اعلان کیا تو حضور نے ایک شخص کو ربوہ سے گجرات بھیجا اور رازی صاحب کے والد صاحب سے ایک تحریران کے خلاف لکھوائی اور اس طرح ان کی تطہیر کی گئی۔ علاوہ ازیں محمد یونس ملتانی نے جب خلافت مآب سے علیحدگی کا اعلان کیا تو ان کے باپ سے حکماً ایک تحریر اپنے بیٹے کے خلاف لکھوا کر الفضل میں شائع کر دی۔ جس میں لکھاکہ میرے بیٹے کا آئندہ میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ چنانچہ تادم تحریر سب مخرجین سے ہمارے رشتہ داروں نے بول چال بند کر رکھی ہے۔ بعض رشتہ دار ایسے ہیں جو ملنا چاہتے ہیں۔ لیکن خلافت مآب سے خوف کھاتے ہیں کہ کہیں جماعت سے خارج کر کے بے عزت نہ کر دیں۔ بعض رشتہ دار ملتے ہیں۔ لیکن چھپ کر اور جب بھی ملتے ہیں اپنی مجبوریوں کا اظہار کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اپنی اپنی علیحدہ مجبوری بیان کرتا ہے۔ لیکن جو مجبوری بھی بیان کی جاتی ہے۔ اس کی بنیاد حضور کا خوف ہی ہوتا ہے۔ یہ ہے وہ آزادیٔ ضمیر جس کا دعویٰ خلافت مآب کرتے ہیں اور یہ ہے ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ کی وہ عملی تفسیر جو شاطر سیاست نے پیش کی ہے۔ کسی نے کیا ہی خوب کہا ہے ؎
تھا یقین آیت اکراہ پہ اپنا لیکن
دین میں جبر روا ہے ہمیں معلوم نہ تھا
ان تمام دلائل وحقائق کے باوجود بھی اگر خلافت مآب یا ان کے کسی خوشامدی یا کسی وظیفہ خوار کی تسلی نہ ہو اور وہ دین میں جبر کو ناجائز ثابت کرنے اور خلافت مآب کے طریق کار کو ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ کی آیت کے مطابق ثابت کرنے کی سعی وجہد فرمائے تو اسے اندھی عقیدت رکھنے والوں کو بے وقوف بناتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ میں نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ حلفیہ کیا ہے اور میں اس سلسلہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ اگر خلافت مآب دین میں جبر سے متعلق