عالم میں شاطر سیاست سے وابستہ رہنا پڑتا ہے۔ حضور کے اسی فی صد نوجوان مریدوں کے اعتقادات حضور پر نور سے محض اس لئے وابستہ ہیں کہ ان کے باپ حضور کے مرید ہیں۔ ورنہ اگر ان کے والدین آج انہیں آزادیٔ ضمیر دے دیں تو اسی فی صد نوجوان حضور سے عدم وابستگی کا اعلان کر دیں۔ یہ بات عام مشاہدے میں آئی ہے کہ اگر کسی نوجوان کو حضور سے ذرا سا اختلاف بھی پیدا ہوا ہے تو حضور نے باپ کو حکم دے کر اسے جائیداد سے محروم کروا دیا اور یا اسے جائیداد سے محروم کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اگر کوئی نوجوان طالب علم ہو اور وہ حضور سے عدم وابستگی کا اعلان کرنا چاہے تو اس کے لئے مشکل یہ ہے کہ اس کے کھانے پینے اور سکول یا کالج کا خرچ بند کر دیا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسے مجبوراً حضور کے قدموں میں نجات سمجھنے کا اقرار کرنا پڑتا ہے۔ اس حقیقت کے جواز میں سینکڑوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ لیکن دور جانے کی ضرورت نہیں۔ میں خود اس مصیبت سے دو چار ہوں اور اس کا زندہ ثبوت ہوں۔ لہٰذا میں قارئین کی معلومات کے لئے تھوڑی سی حقیقت حال صفحہ قرطاس کی نذر کئے دیتا ہوں۔
’’لا اکراہ فی الدین‘‘ کے علمبرداروں سے متعلق ایک واقعہ بیان کرنے سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حلف اٹھایا جائے تاکہ ہم پر حضور کی طرف سے کذب بیانی کے الزام کی گنجائش نہ رہے۔
’’بسم اﷲ الرحمن الرحیم۰ اشہد ان لا الہ الا واشہد ان محمدا عبداہ ورسولہ‘‘ میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ جو واقعہ میں ابھی رقم کروں گا اس میں ایک ذرہ بھر بھی جھوٹ نہیں ہوگا اور میں واقعہ کو من وعن تحریر کروں گا۔‘‘
والد احمدی تھے اور ساری عمر انہوں نے اسی جماعت میں گذار دی۔ طالب علمی کے زمانہ میں ہی مجھے حضور پرنور اور ان کے چند خوشامدیوں اور چند ذمہ دار عہدہ داروں سے ان کی بدعنوانیوں کی بناء پر شدید نفرت ہوگئی تھی اور میں اس بات پر اعلانیہ اعتراض کر دیتا تھا جسے غلط سمجھتا تھا۔ میرے بڑے بھائی کو جو حضور کا مخلص مرید تھا۔ جب ان خیالات کا علم ہواتوا س نے بعض ذاتی رنجشوں کا بدلا چکانے کی غرض سے والد کو میرے خلاف بھڑکایا۔ چنانچہ جب انہیں بلاواسطہ ان خیالات کا علم ہوا تو بڑے بھائی کی سکیم کے مطابق اس عاجز سے وقتاً فوقتاً متعدد تحریریں لکھوائی گئیں۔ جن میں یہ بھی لکھوایا کہ میں احمدی ہوں اور حضور پرنور کے قدموں میں نجات سمجھتا ہوں۔ وغیرہ وغیرہ۔ والد بزرگوار صاف الفاظ میں کہتے تھے کہ اگر تم یہ نہیں لکھو گے تو نہ کالج کا خرچ دیا جائے گا اور نہ ہی تمہیں گھر میں رہنے دیں گے۔ چنانچہ طالب علمی کے اس زمانہ میں مصلحت اسی