اشتعال میں نہ آئیں۔ جس طرح ان کے اس حکم کا مطلب اشتعال میں آجانا ہوتا ہے۔ اسی طرح جب وہ یہ کہتے ہیں کہ مذہب میں جبر روا نہیں تو اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ مذہب میں جبر روا ہے۔ میں اپنے اس استدلال کے جواز میں چند دلائل پیش کر کے ثابت کروں گا کہ سازش مآب اشارات واعلانات میں جو باتیں کرتے ہیں۔ ان سے ان کی مراد کیاہوتی ہے؟ مثلاًان کے اخبار الفضل میں لکھا ہے: ’’باقی رہی آزادیٔ ضمیر تو مذہبی جماعتوں میں صرف جماعت احمدیہ ہی واحد جماعت ہے جو آزادیٔ ضمیر کے اصول کو کلی طور پر تسلیم کرتی ہے اور عقیدہ کے طور پر مانتی ہے کہ اسلام کا اصول ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ اتنا وسیع ہے کہ مغربی جمہوری اصول اس کے پاسنگ بھی نہیں۔‘‘ (الفضل مورخہ ۶؍ستمبر ۱۹۵۶ئ)
مندرجہ بالا سطور میں جس بات کو اپنا عقیدہ تسلیم کیاگیا ہے۔ اگر شاطر سیاست کا عملی طور پر بھی یہی عقیدہ ہے۔ ہمیں ان کے عقیدے کی صداقت پر یقین کرنا پڑے گا۔ لیکن اگر سیاست مآب کا عمل اس عقیدہ کے منافی ثابت ہو جائے تو مندرجہ بالا سطور کی قلعی کھل جائے گی اور معلوم ہو جائے گا کہ شاطر اعظم اس عقیدہ پر صرف زبان ہی سے ایمان رکھتے ہیں۔ ورنہ ان کے دل میں اس عقیدہ کی عزت واحترام نہیں ہے۔
شاطر رؤیا وکشوف نے جب سے مسند خلافت پر قبضہ کیا ہے ایک شخص بھی ایسا نہیں جس نے ان پر کوئی اعتراض کیا ہو اور وہ منافق نہ گردانا گیا ہو۔ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ جس کسی نے جب بھی خلافت مآب کے کارہائے نمایاں پر تنقید کا نشتر چلایا۔ انہوں نے یا تو اسے منافق قرار دے کر جماعت سے خارج کردیا اور یا اسے اپنی خلافت کے لئے خار سمجھ کر قتل کر ڈالا اور وہ ناقدین جنہوں نے جرأت سے کام لے کر حضور سے واشگاف الفاظ میں استفسارات کئے۔ انہیں طرح طرح سے اذیتیں پہنچائیں اور ان کی تطہیر اور رسوائی کے لئے تمام تدابیر اختیار کیں۔ ان کے رشتہ داروں کو ان سے تعلقات رکھنے سے روک دیا اور اگر بس چلا تو ان کے بیوی بچے چھین لئے اور اس طرح ان کی زندگیاں اجیرن بنادیں۔
خلافت مآب کے زیر خلافت دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے مرزاغلام احمد کے ہاتھ پر بیعت کی اور دوسرے وہ جو احمدی باپ کے گھر پیدا ہوئے۔ جہاں تک پہلی قسم کے مریدوں کا تعلق ہے۔ چونکہ انہوں نے خود اپنے آپ کو اس جماعت سے وابستہ کیا تھا۔ اس لئے ان پر تو عقیدہ کے اعتبار سے جبر نہیں ہوتا بلکہ ان پر جبر کا انداز دوسرا ہے۔ لیکن وہ لوگ جو پیدائشی طور پر خلافت مآب سے وابستہ ہیں۔ ان پر جبر کا یہ عالم ہے کہ انہیں بڑی مجبوری اور بے بسی کے