’’انی مع الرسول اجیب۰ اخطیٰ واصیب! (قادیانی کا خدا) خطا بھی کرتا ہے اور کبھی خطا سے بچ بھی جاتا ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۰۳، خزائن ج۲۲ ص۱۰۶، البشریٰ ج۲ ص۷۹، تذکرہ ص۴۶۲ طبع سوم)
’’اصلی واصوم۰ اسمرو انام! نماز پڑھوں گا، روزہ رکھوں گا، جاگوں گا۔ سوؤں گا۔‘‘ (البشریٰ ج۲ ص۷۹، تذکرہ ص۴۶۰ طبع سوم)
ان دو عبارتوں سے مندرجہ ذیل اوصاف مستنبط ہوتے ہیں۔ خطا کرنا، کبھی بچ جانا، نماز پڑھنا، روزہ رکھنا، جاگنا، سونا۔ جو سراسر انسان کے خواص ہیں اور انسان تورات دن ایسے کام کرتے ہی ہیں۔ مرزاقادیانی سے کسی نے کر لیا اور فرط محبت میں آکر مرزاقادیانی نے اسے خدا سمجھ لیا یا کہہ دیا تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ مرزاقادیانی کا ایک عجیب پرراز ونیاز الہام جس کے صحیح معنی آج تک کسی نے نہیں کئے۔ خدا نے اپنے فضل وکرم سے مجھ پر منکشف کئے ہیں۔ لیکن تہذیب تفصیل کی اجازت نہیں دیتی کہ اسے معرض صحافت پر لایا جائے۔ الہام یہ ہے۔ ربنا عاج! شائقین حضرات زبانی دریافت کر سکتے ہیں۔ مؤلف!
۴…مرزاقادیانی کا حاملہ ہونا
’’پھر وہ مریم (یعنی مرزاقادیانی) عیسیٰ سے حاملہ ہوگئی۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۳۷ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۳۵۰ حاشیہ)
’’مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں۔‘‘
(کشتی نوح ص۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۰)
۵…دردزہ سے تکلیف پانا
’’پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے، دردزہ تنے کھجور کی طرف لے گئی۔‘‘
(کشتی نوح ص۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۰)