’’مجھے خدا سے ایک نہانی تعلق ہے جو قابل بیان نہیں۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۶۳، خزائن ج۲۱ ص۸۱)
(افسوس قاضی صاحب نے بیان کر دیا۔ مؤلف!)
’’(شانک عجیب) اے مرزا تیرے حسن کی شان ہی عجیب ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۶۱، خزائن ج۲۱ ص۷۸)
(انجام آتھم ص۵۵، خزائن ج۱۱ ص۵۵) ’’انت من مائنا! اے مرزا تو میرے پانی سے ہے۔ (یعنی تجھے میرا مخصوص پانی سیراب کرتاہے۔ مؤلف!) یحمدک اﷲ من عرشہ ویمشی الیک! عرش سے خدا تیرے محاسن بیان کرتا ہوا تیری طرف آرہا ہے۔ اکان للناس عجباً! آیا اس تعلق کو لوگ عجب سمجھتے ہیں۔ قل ہو اﷲ عجیب! لوگوں کو کہہ دے کہ میرا خدا ہے ہی عجیب۔ کمثلک درلا یضاع! تیرے جیسے موتی نہیں ضائع کئے جاتے۔ انت مرادی! میری تیرے سوا مراد ہی نہیں۔‘‘
(انجام آتھم ص۵۹، خزائن ج۱۱ ص۵۹) ’’سرک سری! تیرا میرا بھید ہی ایک ہے۔ خوف طوالت اجازت نہیں دیتی۔ ورنہ ہزاروں اس قسم کی عبارتیں ہیں جو قاضی صاحب کی تائید کرتی ہیں۔ مؤلف!)‘‘
مرزاقادیانی کا خدا
مضمون بالا سے ناظرین کو ایک گونہ تشویش ہوگی کہ خدا بھی ایسے کام کرتا ہے اس تشویش کو دور کرنے کے لئے یہ سمجھانا بھی ضروری ہے کہ مرزاقادیانی کا خدا کون تھا۔ بلاشبہ رب العالمین کی نسبت ایک لمحے کے لئے ایسا تصور کرنا انسان کو اسلام سے دور کردیتا ہے۔ لیکن جب ناظرین پر مرزاقادیانی کا خدا واضح ہو جائے گا تو تصدیق کریں گے کہ بیشک سچ ہے اور یونہی ہونا چاہئے۔