وہ رفع ہو اور وہ بھی دنیا میں معزز مہذب کہلاویں۔‘‘ ۱
اپنے رسالہ ’’احکام طعام اہل کتاب‘‘ میں جو ۱۸۶۷ء کی تالیف ہے، کھانے پینے اور معاشرت میں انگریزوں کا طریقہ اختیار کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے عربی میں لکھتے ہیں (جس کا ترجمہ یہ ہے):۔
’’پس اے مسلمانو! اس پر عمل کرو، خود پسندی و تکبر کی نیت سے نہیں بلکہ اس نیت سے کہ مسلمانوں کی حالت میں رفعت و بلندی پیدا ہوجائے تاکہ اس ذلت و مسکنت کی بنا پر جس کے لوگ عادی ہوگئے ہیں، کوئی قوم ان کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھے، اللہ تعالیٰ کو ہمارے سینوں کا حال معلوم ہے، اور وہ ہمارے قلوب کے متعلق صحیح فیصلہ کرتا ہے۔ ۲
اپریل ۱۸۶۹ء میں سرسید نے انگلینڈ کا سفر کیا، اس ابتدائی دور میں وہ پہلے نامور مسلمان تھے، جنہوں نے جزائر برطانیہ کا سفر کیا، اس وقت نہرسویز زیر تعمیر تھی، ۳ انہوں نے اس کے انجینئر اور بانی (FERDINAND DE LESSEPS) سے بھی ملاقات کی جو اس جہاز میں سفر کر رہے تھے۔
لندن میں سرسید کا بڑی گرمجوشی سے استقبال ہوا، انہوں نے وہاں ۱۷ مہینے قیام کیا، اور ایک معزز مہمان، قابلِ احترام مسافر اور عزیز دوست کی حیثیت سے لندن کے ممتاز حلقوں میں ان کو ممتاز جگہ حاصل ہوئی، وہ بڑی بڑی شاہی پارٹیوں اور اعلیٰ و معزز دعوتوں اور مجلسوں میں شریک ہوئے جہاں مغربی تہذیب، حاکم طبقہ اور اشرافِ شہر کا اخلاق و کردار پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ گر تھا، ان کو سی، ایس، آئی کا معزز خطاب
------------------------------
۱۔ تہذیب الاخلاق مضامین سرسید جلد دوم ص: ۱
۲۔ ص: ۵۰
۳۔ ۱۷ نومبر ۱۸۶۹ء میں اس کا افتتاح ہوا اور باقاعدہ جہازوں کی آمدورفت شروع ہوئی، اس اہم تاریخی واقعہ پر شاندار جشن منایا گیا، اس وقت سرسید احمد خاں انگلستان میں تھے۔