حاکم تھی، اس کی ذلت و پستی، بڑے بڑے خاندانوں اور گھرانوں کی فلاکت اور انگریزوں کی شان و شوکت (جو مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کے ملبہ پر قائم ہورہی تھی) نیز ان کی حکومت اور ساحرانہ تہذیب کے مناظر بھی دیکھے، اس کے علاوہ ملازمت، رفاقت اور دوستی و تعارف کے ذریعہ ان کو انگریزوں سے طویل واسطہ پڑا تھا، اور بہت قریب سے ان کی زندگی کے مطالعہ کا موقعہ ملا تھا، وہ ان کی ذہانت، قوتِ عمل اور ان کے تمدن سے متاثر ہوئے وہ ایک ذہین، نہایت ذکی الحس، سریع الانفعال اور دردمند قسم کے آدمی تھے، انہوں نے متوسط درجہ کی دینی تعلیم پائی تھی، اور دینی علوم اور کتاب وسنت پر ان کی نظر گہری اور وسیع نہ تھی، جلد رائے قائم کرلینے اور جرات کے ساتھ اس کا اظہار کرنے کے عادی تھے، وہ انگریزوں سے اس طرح متاثر ہوئے جس طرح کوئی مغلوب غالب سے، یا کوئی کمزور طاقتور سے متاثر ہوتا ہے، انہوں نے شخصی طور پر انگریزی، تہذیب اور طرز معاشرت کو اختیار کیا اور دوسروں کو بھی بڑی گرمجوشی اور قوت کے ساتھ اس کی دعوت دی، ان کا خیال تھا کہ اس ہم رنگی، حاکم قوم کی معاشرت و تمدن اختیار کرنے اور ان کے ساتھ بے تکلف رہنے سے وہ مرعوبیت، احساسِ کہتری اور احساسِ غلامی دور ہوجائے گا، جس میں مسلمان مبتلا ہیں، اور حکام کی نظر میں ان کی قدرومنزلت بڑھ جائے گی اور وہ ایک معزز مساوی درجہ کی قوم کے افراد معلوم ہونے لگیں گے، یہ خیال اور یہ نقطہ نظر ان کے بعض مضامین میں بہت صفائی کے ساتھ ملتا ہے، ایک جگہ لکھتے ہیں:۔
’’ہندوستان کے مسلمانوں کو کامل درجہ سویلزیشن یعنی تہذیب اختیار کرنے پر راغب کیا جاوے تاکہ جس حقارت سے سویلزڈ یعنی مہذب قومیں ان کو دیکھتی ہیں،