دیوانی، اٹلی کا قانونِ فوجداری اور جرمنی کا قانون بین الاقوامی تجارت نافذ کیا گیا اور پرسنل لا کو یورپ کے قانونِ دیوانی کے مطابق و ماتحت کردیا، دینی تعلیم ممنوع قرار پائی، پردہ کو خلافِ قانون قرار دے دیا، مخلوط تعلیم کا نفاذ کیا گیا، عربی حروف کی جگہ لاطینی حروف جاری ہوئے عربی میں اذان ممنوع قرار پائی، قوم کا لباس تبدیل ہوگیا، ہیٹ کا استعمال لازمی قرار پایا غرض کہ کمال اتاترک نے سابق انگریز مورخ کے الفاظ میں ’’ترکی قوم اور حکومت کی دینی اساس کو توڑ پھوڑ کے ختم کردیا اور قوم کا نقطۂ نظر ہی بدل دیا۔‘‘ ۱
ریاست کو نامذہبی بنانے کا بل پیش کرتے ہوئے کمال نے پارلیمنٹ میں جو تقریر کی تھی اس کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے عرفان اُورگا لکھتا ہے:۔
’’اس بنیاد پر خاموشی اور خوبصورتی کے ساتھ عمل کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے ۳ ؍ مارچ ۱۹۲۴ء کو ایک بل پیش کیا، اس بل نے ترکی کی ریاست کو نامذہبی شکل (SECULAR) دے دی اور خلیفہ کے منصب کو ختم کردیا، بل کو پیش کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے اس موضوع پر کھل کر بحث کی، اس نے کہا کہ عثمانی سلطنت، اسلام کے اصول پر قائم ہوئی تھی، اسلام اپنی ساخت اور اپنے تصورات کے لحاظ سے عرب ہے، وہ پیدائش سے لے کر موت تک اپنے پیروؤں کی زندگی کی تشکیل کرتا ہے، اور ان کو اپنے مخصوص سانچہ میں ڈھالتا ہے، وہ ان کی امنگوں کا گلا گھونٹ دیتا ہے، اور ان کی جرات و اقدام پسندی میں روڑے اٹکاتا ہے، ریاست کو اسلام کے مسلسل باقی رہنے سے خطرہ لاحق رہے گا۔‘‘۲
نئے فیصلوں اور ان اصلاحات کا اسلام کے مستقبل پر جو اثر پڑا اور ان سے جو دور رس تبدیلیاں واقع ہوئیں ان کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتا ہے:۔
------------------------------
۱۔ ATATURK P.280
۲۔ P. 241