اصلاحی و انقلابی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے حسب ذیل الفاظ لکھتا ہے:۔
’’اتاترک نے توڑ پھوڑ کی، اس زبردست اور عمومی کارروائی کی تکمیل کرنی شروع کی جس کا آغاز وہ کرچکا تھا، اس نے فیصلہ کیا تھا کہ ترکی کو اپنے بوسیدہ اور متعفن ماضی سے علیحدہ کرنا ہے، اور اس تمام ملبہ کو ہٹانا ہے جس نے اس کو گھیر رکھا ہے، اس نے اس قدیم سیاسی ڈھانچہ کو واقعی توڑ پھینکا، سلطنت کو جمہوریت سے آشنا کیا اور اس ترکی کو جو ایک شہنشاہی (EMPIRE) تھا ایک معمولی ملک میں تبدیل کردیا اور ایک ’’مذہبی ریاست‘‘ کو حقیر درجہ کا جمہوریہ بنادیا، اس نے سلطان (خلیفہ) کو معزول کرکے قدیم عثمانی سلطنت سے سارے تعلقات ختم کرلئے تھے، اب اس نے قوم کی عقلیت، اس کے قدیم تصورات، اخلاق و عادات لباس، طرزِ گفتگو، آداب، معاشرت اور گھریلو زندگی کے جزئیات تک تبدیل کرنے کی مہم شروع کی جو اس کو اپنے ماضی اور مشرقی ماحول سے وابستہ کرتی ہیں، کلی انقلاب اور تبدیلی کا یہ کام نیا سیاسی ڈھانچہ بنانے سے بھی زیادہ مشکل تھا، اس کو اس کام کی دشواری کا پورا احساس تھا ایک مرتبہ اس نے کہا کہ ’’میں نے دشمن پر فتح پائی اور ملک کو فتح کیا، لیکن کیا میں قوم پر بھی فتح پاسکوں گا؟‘‘۔۱
کمال اتاترک نے واقعۃً قوم پر فتح پائی، ملک کو سیکولر (نامذہبی) اسٹیٹ میں تبدیل کردیا جس میں اسلام کو سرکاری مذہب کی حیثیت حاصل نہیں رہی، دین و سیاست میں تفریق ہوگئی اور یہ فیصلہ کرلیا گیا کہ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے، ہر شخص اپنے لئے کسی مذہب کا انتخاب کرسکتا ہے، بغیر اس کے کہ سیاست میں بھی اس کو دخل ہو، خلافت کے ادارہ کو ختم کردیا گیا، شرعی اداروں اور محکموں اور اسلامی قانونِ شریعت کو ملک سے بے دخل کرکے سوئزر لینڈ کا قانونِ
------------------------------
۱۔ GREY WOLF P. 287