اور شعائر اللہ کی توہین ہوتی ہو۔ (۱)
شیخ احمد حمانی کے مطالبات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ الجزائر تعلیمی، دینی اور اخلاقی لحاظ سے کس راستہ پر گامزن ہے اور نئے تعلیمی نظام نے جو مستقبل کے قائد تیار کرنے کا ضامن ہے، اور وسائل ابلاغ نے جو موجودہ نسل کی تربیت کر رہے ہیں، ملک کے لئے کیا مسائل پیدا کر دیئے ہیں، اور مستقبل کے لئے کیا خطرات ہیں؟
اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے کہ الجزائر کی قیادت اشتراکیت کے نفاذ اور زندگی کے ہر شعبہ میں اس کی اجتماعی، اخلاقی اور فکری قدروں کے رواج میں کسی رعایت اور نرمی کی قائل نہیں اور اس کا اس کے لیڈر پوری صفائی سے اعلان کرتے رہے ہیں، اگرچہ وہ اس کے ساتھ اسلام کا بھی نام لیتے رہتے ہیں، اس سے ملک کی لیڈر شپ اور ملک کے عوام نیز سیاسی قیادت اور دینی قیادت کے درمیان فکری تضاد کا پیدا ہونا یقینی ہے۔ (۲)
یہ آزاد ہونے والے عرب ممالک اور ان کے قوم پرست رہنما وقتاً فوقتاً اسلام سے اپنی وابستگی اور دلچسپی کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں، وہ اس حقیقت سے ناواقف نہیں ہیں کہ اب بھی اسلام ان کے اور عوام کے درمیان سب سے بڑا اور طاقتور رابطہ ہے اور اس کا نام لئے بغیر وہ لاکھوں کروڑوں عوام کے دلوں پر حکومت نہیں کر سکتے، لیکن اسلام کا مفہوم ان کے ذہن میں اس مفہوم سے بہت مختلف ہوتا ہے جو ابھی تک ٹھیٹھ مسلمانوں کے ذہن و عقیدہ میں چلا آ رہا ہے، اس سے مراد ان کےنزدیک وہ اصلاح شدہ (REFORMED) مذہب ہے، جو مغربی تمدن اور مغربی افکار و اقدار کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکے اور ان کی
------------------------------
۱۔ الاصالہ الجزائر۔
۲۔ الجزائر کی جدید صورت حال پر تبصرہ واضح رشید ندوی کے قلم سے ہے۔