اعلیٰ مراتب کے لئے اس کی جدوجہد بتدریج ختم ہورہی ہے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ وہ درحقیقت زندگی ہی سے اکتا چکا ہے، اس کی نظر حقائق پر ہے، یعنی حواس کے اس سرچشمہ پر جو اس کی آنکھوں کے سامنے ہے، لہذا اس کا تعلق اپنے اعماق وجود سے منقطع ہوچکا ہے، اور پھر جیسا کہ ہکسلے (HUXLEY) کو کبھی خدشہ تھا، اور جس کا بہ تاسف وہ اظہار بھی کرچکا ہے، مادیات کے اس باقاعدہ نشوونما نے اس کے رگ و پے بھی مفلوج کردئیے ہیں۔‘‘ ۱؎
’’عصر حاضر کی لادین اشتراکیت کا مطمحِ نظر بے شک نسبتاً زیادہ وسیع ہے، اور اس کے جوش و سرگرمی کا بھی وہی عالم ہے جو کسی نئے مذہب کا، لیکن اس کی اساس چونکہ ہیگل (HEGEL) کے مخالف نظر متبعین پر ہے، لہٰذا وہ اس چیز ہی سے برسرپیکار ہے جو اس کے لئے زندگی اور طاقت کا سرچشمہ بن سکتی تھی۔‘‘ ۲؎
علامہ اقبال مغربی سوسائٹی کو ایک ایسی سوسائٹی قرار دیتے ہیں جس کے پیچھے صرف وحشیانہ رسہ کشی کارفرما ہے، وہ اس کو ایک ایسی تہذیب کہتے ہیں جو دینی اقدار اور سیاسی اقدار کی کشمکش کی وجہ سے اپنی روحانی وحدت کھو بیٹھی ہے۔
وہ ایک واقف کار اور مبصر کی حیثیت سے سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں کو شجرِ مادیت کی دو شاخیں اور ایک ہی خاندان کے دو گھرانے قرار دیتے ہیں، جس میں ایک مشرقی ہے، اور ایک مغربی، لیکن مادی طرزِ فکر، زندگی اور انسان کے متعلق محدود نقطۂ نظر میں دونوں ’’ایک جان و دو قالب‘‘ ہیں، ایک فکری اور تخیلاتی سفر میں، جس میں ان کی ملاقات سید جمال الدین افغانی سے ہوئی ہے، ان کی زبان سے یہ تبصرہ نقل کرتے ہیں:۔
ہردو را جاں ناصبور و ناشکیب
ہردو یزداں ناشناس آدم فریب
------------------------------
۱۔ تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ ص: ۲۸۹، ۲۹۰
۲۔ ایضاً ص: ۲۹۱، ۲۹۲