یہ علم یہ حکمت یہ تدبر یہ حکومت
پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیمِ مساوات
بیکاری وعریانی ومے خواری وافلاس
کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کے فتوحات
وہ قوم کہ فیضانِ سماوی سے ہو محروم
حد اس کے کمالات کی ہے برق و بخارات
مغربی تمدن، اس کی بنیادوں اور اس کے طرز فکر پر یہ تنقید اور جائزہ ان کے علمی خطبات میں جو انہوں نے مدراس میں دئیے تھے، اور جو (RECONSTRUCTION OF RELIGIOUS THOUGHT IN ISLAM) کے نام سے شائع ہوئے تھے، قدرتی طور پر زیادہ ٹھوس اور گہرا ہے، اس لئے کہ علم و فلسفہ کی زبان شعروادب کی زبان کے مقابلہ میں علمی خیالات اور جنچی تلی تنقید کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہے، وہ مغرب کی مادی تہذیب کی ساخت اور مزاج اور موجودہ انسان پر (جو اس کا نمائندہ اور علمبردار ہے) نیز ان مسائل اور مشکلات پر جب سے وہ دوچار ہے تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:۔
’’عہد حاضر کے تنقیدی فلسفوں اور علومِ طبعیہ میں اختصاص نے انسان کی جو حالت کررکھی ہے، بڑی ناگفتہ بہ ہے، اس کے فلسفۂ فطرت نے تو بیشک اسے یہ صلاحیت بخشی کہ قوائے فطرت کی تسخیر کرے، مگر مستقبل میں اس کے ایمان اور اعتماد کی دولت چھین کر۔‘‘ ۱؎
’’عصر حاضر کی ذہنی سرگرمیوں سے جو نتائج مترتب ہوئے ان کے زیر اثر انسان کی روح مردہ ہوچکی ہے، یعنی وہ اپنے ضمیر اور باطن سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے، خیالات اور تصورات کی جہت سے دیکھئے تو اس کا وجود اپنی ذات سے متصادم ہے، سیاسی اعتبار سے نظر ڈالئے تو افراد افراد سے، اس میں سکت ہی نہیں کہ اپنی بے رحم انانیت اور ناقابلِ تسکین جوعِ زر پر قابو حاصل کرسکے، یہ باتیں ہیں جن کے زیر اثر زندگی کے
------------------------------
۱۔ تشکیل جدید الہیاتِ اسلامیہ ص: ۲۸۷، ۲۸۸