حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ میں ضعفائے مہاجرین کی جماعت میں بیٹھا ہوا تھا، ان لوگوں کے پاس کپڑا بھی اتنا نہ تھا کہ جس سے پورا بدن ڈھانپ لیں بعض لوگ بعض کی اوٹ کرتے تھے (مجمع میں ستر کے علاوہ اور بدن کے کھلنے سے بھی حجاب معلوم ہوا کرتا ہے اس لیے ایک دوسرے کے پیچھے بیٹھ گئے تھے کہ بدن نظر نہ آوے) اور ایک شخص قرآن شریف پڑھ رہا تھا کہ اتنے میں حضور ﷺ تشریف فرما ہوئے اور بالکل ہمارے قریب کھڑے ہوگئے۔ حضور ﷺ کے آنے پر قاری چپ ہوگیا (یہ خاموشی ادب کی وجہ سے تھی) تو حضور ﷺ نے سلام کیا اور پھر دریافت فرمایا کہ تم لوگ کیا کر رہے تھے؟ ہم نے عرض کیا کہ کلام اللہ سن رہے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: تمام تعریف اسی اللہ کے لیے ہے جس نے میری اُمت میں ایسے لوگ پیدا فرمائے کہ مجھے ان میں ٹھہرنے کا حکم کیا گیا۔ اس کے بعد حضور ﷺ ہمارے بیچ میں بیٹھ گئے تاکہ سب کے برابر رہیں، کسی کے قریب کسی سے دور نہ ہوں۔
قرآن شریف پڑھنے کے فضائل تو ہیں ہی بے حد۔ اس کے سننے کے فضائل بھی متعدد روایات میں آئے ہیں۔ اس سے بڑھ کر اور کیا فضیلت ہوگی کہ سید المرسلین ﷺ کو بھی ایسی مجلس میں شرکت کا حکم ہوا ہے، جیسا کہ اس روایت سے معلوم ہوا۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺ منبر پر تشریف فرماتھے۔ ارشاد فرمایا کہ مجھے قرآن شریف سنائیں۔ میں نے عرض کیا: حضورﷺ پر تو خود نازل ہی ہوا ہے، حضور کو کیا سناؤں؟ ارشاد ہوا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ دوسرے سے سنوں۔ اس کے بعد انھوں نے سورئہ نساء سے سنایا تو حضور ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔
ایک مرتبہ سالم مولیٰ حذیفہؓ کلام مجید پڑھ رہے تھے کہ حضور اکرم ﷺ دیر تک کھڑے ہوئے سنتے رہے۔ ابو موسیٰ اشعریؓ کا قرآن شریف سنا تو تعریف فرمائی۔ ان روایات سے قرآن مجید سننے کی فضیلت اوران کا ثواب معلوم ہوتا ہے۔
اوپر کی احادیث و روایات میں قرآن مجید کی تلاوت وسماعت پر جو ثواب بیان فرمایا گیا ہے یہ اس وقت ہے جب نماز سے باہر اور بے وضو قرآن کریم پڑھا یا سنا جائے لیکن اگر قرآن مجید کی تلاوت نماز میں کی جائے یا وضو کے ساتھ اس کو پڑھا جائے تو پھر قرآن کا ثواب بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
چناں چہ صاحبِ احیاء نے حضرت علیؓ سے نقل کیا ہے کہ جس شخص نے نماز میں کھڑے ہو کر کلام پاک پڑھا اس کو ہر حرف پر سو نیکیاں ملیں گی، اور جس شخص نے نماز (نفل) میں بلا عذر بیٹھ کر پڑھا اس کے لیے پچاس نیکیاں، اور جس نے بغیر نماز کے وضو کے ساتھ پڑھا اس کے لیے پچیس نیکیاں، اور جس نے بلا وضو پڑھا اس کے لیے دس نیکیاں، اور جو شخص