خلیفہ کی خلوتی زندگی اجالوں سے خائف رہتی تھی۔ عفت ان کے لئے بے معنی لفظ تھا۔
ہے یہ وہ لفظ جو شرمندۂ معنی نہ ہوا
اگر جماعت کا مزاج بدستور دینی رہتاتو خلیفہ صاحب عصمتوں کے ساتھ وہ تلعب نہ کر سکتے جو ان کا شیوہ ہوچکا تھا۔ کیونکہ دینی مزاج خود ایک قسم کا احتساب ہوتا ہے۔ وہ ان طریقوں اور سلیقوں کو کبھی گوارا نہیں کرتا جو بانی ٔ سلسلہ کے وقت میں دیکھے گئے اور نہ مولوی نورالدین کے دور میں نظر آئے۔ اس لئے خلیفہ کی عافیت اسی میں تھی کہ دینی مزاج کو کمزور کیا جائے۔ جماعت کو سرگشتہ خمار رسوم وقیود کر کے ایک جسد بے جان بنا کر چھوڑ دیا جائے۔ تاکہ نہ خلیفہ کی نمازوں سے (خصوصاً نماز فجر سے) مسلسل غیرحاضری بار خاطر بنے نہ ان کا نماز مغرب کو قضا کر کے پڑھنا کسی کو دو بھر ہو جب منبرومحراب کے سیاق وسباق میں کھڑے ہوکر وہ اپنے روحانی مدارج کی بلندی کا ذکر کر رہے ہوں۔ تو دائیں ہاتھ کی گنج ران اور اس کے قرب وجوار میں یورشیں کسی کو کبیدہ نہ کریں جب ان کے مقرب نوجوان دامن دریدہ اور چاک گریباں ہوکر قصر خلافت کے رنگین اور سنگین رومان سنائیں تو ان پر کوئی کان تک نہ دھرے۔ معصیت کاریاں کچھ تو خوارق عادت سنگینی کے پردے میں مستور ہو جائیں اور کچھ جماعت کے سیاسی اور دنیاوی مزاج کے دامن میں چھپ کر آنکھوں سے اوجھل ہوجائیں۔ چنانچہ اس کیفیت کے لئے ضروری تھا کہ جماعت کے مزاج میں انقلاب برپا کیا جائے۔ خلیفہ صاحب اس طالع آزمائی میں کامیاب ہوگئے۔ جماعت، احمدیت سے ہجرت کر کے محمودیت کے ویرانہ آباد نما میں بس گئی۔ محمودیت کا پیرہن احمدیت کا کفن بنتا چلا گیا۔ اگرچہ دس دس سال کے وقفوں پر خلیفہ کے عصیان جنسی کو ہوا ملی۔ لیکن جماعت میں کوئی ایسا ردعمل نہ ہوا جو اس کی دین داری کی آئینہ داری کرتا۔ بعض گوشوں میں رد عمل ہوا تو والد مرحوم کی منظوم آرزوؤں کو پیش کر دیا گیا۔ حالانکہ نیک چلنی کا معاملہ آفتاب آمد دلیل آفتاب کا ہوتا ہے۔ لیکن یہاں تو لوگوں کو فریب میں مبتلا رکھنا مقصود تھا۔ حالانکہ ویسی ہی دعائیں اور امنگیں دوسرے دو بیٹوں کے لئے بھی ہیں۔ لیکن وہ کسی کے حجت نہ بن سکیں۔ ان کی شخصیتیں اپنے اعمال کے ترازومیں تلتی رہیں۔لیکن خلیفہ نے ایسی ہی دعاؤں کو اپنے لئے برہان قاطع بنا دیا۔ حالانکہ ان کے ذاتی اعمال کے دفتر میں پاکیزگی عنقا کا حکم رکھتی ہے۔ لیکن انہوں نے جماعت کی زیست اس طرح کی کہ وہ سمجھنے لگ گئی۔ کہ خلیفہ صاحب کے لئے خوابوں اور خواہشوں کا تکرار کافی ہے۔ کیونکہ ان کی ضو سے شبستان خلافت روشن ہوجاتا ہے اور خلیفہ بڑے طمطراق سے کہہ دیا کرتے ہیں: