سامنے آئیں، پہلی قیادت دینی قیادت تھی، جس کے علمبردار علماء دین تھے، دوسری قیادت کے علمبردار سرسید احمد خاں، ان کے حلقہ بگوش اور جدید مکتبِ خیال کے افراد تھے۔
جہاں تک علماء کا تعلق ہے، ان کو رسوخ فی الدین، زہد و تقویٰ، ایثار
و اخلاص، دینی غیرت و حمیت اور اس کی راہ میں قربانی کے میدان میں عالمِ اسلام کی سب سے طاقتور دینی شخصیت اور عنصر قرار دیا جاسکتا ہے، لیکن اس ظلم و بربریت اور غیر معمولی سنگ دلی اور بے رحمی کی وجہ سے جس کا مظاہرہ انگریزی حکومت نے مسلمانوں کے معاملہ میں کیا تھا، جن کو وہ ۵۷ء کے غدر کا اولیں رہنما اور حقیقی قائد تسلیم کرتی تھی، ١؎ نیز عیسائیت کی ترویج و اشاعت میں حکومت کی سرگرمی اور گرم جوشی اور مغربی تہذیب کی عوام میں غیر معمولی تیزی کے ساتھ مقبولیت اور مسلمانوں کے عقائد اور اخلاق ومعاشرت میں اس کے اثرات کی وجہ سے ان لوگوں کو اقدام کے بجائے دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا، انہوں نے اس کی فکر شروع کی کہ دینی جذبہ، اسلامی روح، اسلامی زندگی کے مظاہر اور تہذیبِ اسلامی کے جتنے بچے کھچے آثار باقی رہ گئے ہیں، ان کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی جائے، اور اسلامی تہذیب اور ثقافت کے لئے قلعہ بندیاں کرلی جائیں اور پھر ان قلعوں میں (جن کو عربی مدارس کے نام سے پکارا گیا ہے) مبلغ اور داعی تیار کئے جائیں۔
اس عظیم اصلاحی اور تعلیمی تحریک کے (جس کا آغاز ۱۲۸۳ھ مطابق ۱۸۶۶ء میں ہوا) سربراہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ بانی دارالعلوم دیوبند تھے۔
مولانا سید مناظر احسن گیلانی، مولانا محمد قاسم صاحبؒ کے تذکرہ ’’سوانح قاسمی‘‘
------------------------------
۱۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: ’’ہندوستانی مسلمان‘‘ از مؤلف