اس کی سب سے بڑی وجہ یہ شہرت تھی کہ اس نے ترکی کو بہت نازک وقت میں ایک ایسے خطرہ سے بچایا جو اس کے لئے موت و زیست کا سوال بن گیا تھا، اور ایک مضبوط حکومت قائم کی اور مغربی حکومتوں اور اس کے سیاسی لیڈروں کو اپنی عزیمت اور عظمت کے سامنے سرنگوں کردیا، مشرق کے مسلمان اس عہد میں سیاسی قوت کے پیاسے اور عزت و آزادی کے حصول کے لئے بے چین تھے، اور جس میں ان کو یہ صفات نظر آتیں وہ ان کا محبوب ہیرو بن جاتا اور اس کے سامنے وہ بصد نیاز سرتسلیم خم کردیتے۔
کمال اتاترک کے ساتھ یہی واقعہ پیش آیا کہ مسلمانوں کے دلوں میں اس کی طرف سے مبالغہ آمیز عقیدت و محبت کے جذبات پیدا ہوگئے ۔
اس کا دوسرا سبب یہ تھا کہ اس کی اصلاحات اسلامی ممالک کے قومی لیڈروں کی امنگوں کے عین مطابق ثابت ہوئیں، اور اس نے ان کے اصلی خیالات و جذبات کی ترجمانی کی، ان کے دلوں میں تغیر و انقلاب اور دین کی گرفت سے آزادی کی جو شدید خواہش اور اپنی قوم کو مکمل طور پر مغربی تہذیب کے سانچہ میں ڈھالنے کا جو دیرینہ جذبہ موجزن تھا، ان ’’اصلاحات‘‘ نے ان کےلئے ایک شاندار اور کامیاب تجربہ اور نمونہ فراہم کردیا۔
بہرحال اس کے جوبھی اسباب رہے ہوں، نتیجہ یہ ہوا کہ کمال اتاترک کو اسلامی مشرق میں وہ مقام حاصل ہوگیا جو ایک عرصہ سے کسی مشرقی لیڈر کو حاصل نہ ہوسکا تھا، اسلامی اقوام کے ابھرتے ہوئے رجحانات و میلانات اور مغربی تہذیب کے بارے میں ان کے رویہ اور موقف پر ترکی کے انقلاب کا گہرا اثر پڑا اور یہ اثر پڑنا قدرتی اور لازمی تھا۔