وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِo
(البقرہ ۱۴۳)
اور اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک " امت وسط" بنایا ہے تاکہ تم دنیا کےلوگوں پر گواہ ہو۔
اس لئےاس کاسوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ اس امت کی جگہ قافلہ کے پیچھے اور شاگردوں اور خاشیہ برداروں کی صف میں ہو اور وہ دوسری اقوام کے سہارے زندہ رہے، اور قیادت و رہنمائی، امرو نہی اور ذہنی و فکری آزادی کے بجائے تقلید اور نقل، اطاعت و سپر اندازی پر راضی اور مطمئن ہو، اس کے صحیح موقف کی مثال اس شریف قوی الارادہ، آزاد ضمیر شخص سےدی جاسکتی ہے، جو ضرورت و احتیاج کے وقت دوسروں سے اپنے ارادہ و اختیار سے وہ چیزیں قبول کرتا ہے، جو اس کے حالات کے مطابق ہوں اور اس کی شخصیت اور خود اعتمادی کو مجروح نہ کرتی ہوں، اور ان چیزوں کو مسترد کردیتا ہے، جو اس کی شخصیت اور حیثیت کے مطابق نہ ہوں یا اس کو کمزور کرتی ہوں، یہی وجہ ہے کہ اس قوم کو کسی دوسری قوم کے شعائر اور امتیازات کا اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔۱؎
------------------------------
۱؎ علامہ (حسین بن محمد عبداللہ) طیبی(م۷۴۳ھ) اپنی کتاب"الکاشف عن حقائق السنن المحمدیہ" ( شرح مشکوٰۃ المصابیح) میں حدیث" من تشبَّہ بقوم فھو منھم" کی شرح بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں،" یہ اخلاق، شکل وصورت اور شعار تینوں کے لئے عام ہے 'لیکن چونکہ شعار سب سے زیادہ نمایاں اور ظاہر ہوتا ہے، اس لئے اس کو اس باب میں ذکر کیا ہے، ملا علی قاری (م۱۰۱۴ھ) نے"مرقاۃ" میں لکھا ہے کہ یہاں شعائر ہی میں تشبّہ مراد ہے، اس لئے کہ صوری اخلاق میں تشبّہ کا تصور نہیں ہوتا، اور معنوی اخلاق کے لئے تشبّہ کا نہیں بلکہ تخلّق کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، اس لئےاس سے مراد قومی خصائص اور علامات ہی ہیں ( ج۴ ص۴۳۱)