شام پر اسی پارٹی اور مکتب خیال کے پیروں کا اقتدار چلا آرہا ہے، لادینی سیاست عرب قوم پرستی اور اشتراکی رجحانات ملک پر اتنے حاوی اور قابویافتہ ہوگَئے کہ اسلام پسندوں اور کسی دوسرے نقطہ نظر کے حامیوں کا اس ملک میں رہنا اور اپنے خیالات کی تبلیغ کرنا قریب قریب ناممکن ہو گیا، اور بڑی تعداد میں ترک وطن کرکے دوسرے عرب ملکوں یا یورپ میں منتقل ہو گَئے، شام (جو کبھی دینی علوم اور اسلامی فکر کا مصر کے بعد دوسرا مرکز شمار ہوتا تھا) اپنے مایہَ ناز علماء مفکرین ُ اہل قلم اور دینی قائدین سے محروم ہوگیا، ملک کی باگ ڈرو نوجوان طبقے کے افراد کے ہاتھ میں آگئی جن میں نہ ذہنی پختگی تھی نہ انتظامی تجربہ، دماغی اعتدال و توازن، یہ ملت جو کبھی اپنی سرسبزی وخوشحالی کے لئے مشہور تھا، معاشی بد حالی سے دو چار ہو، ملک کے سرمایہ کا بڑا حصہ روز روز پیش آنے والے انقلابات کی وجہ سے باہر منتقل ہوگیا، قومیت، خالص مادّی طریق فکر اور اشتراکیت کا نشہ اتنا تیز ہوگیا کہ نوجوان اہل قلم اور حکومت و فوج کے بعض ذمہ دار دینی تصورات اور ادیان سماوی کے مشترک مسلّمات کا کھلے طریقہ پر مذاق اڑانے سے بھی باز نہیں رہے، اس زجحان و طرز فکر کا ایک نمونہ شام کے سرکاری فوجی رسالے (جیش الشعب) کے ایک مضمون میں دیکھا جا سکتا ہے، جو فوج کے ایک رکن کے قلم سے ہے، یہاں اس کے چند اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں:-
"عرب قوم نے الہ معبود سے مدد طلب کی، اسلام اور مسیحیت کی قدیم قدروں کو ٹٹولا جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام سے مدد چاہی، ازمنہ وسطیٰ کے بعض معروف نظاموں کا تجربہ کیا، لیکن اِن سب سے اس کو ذرہ برابرا بھی فائدہ نہ ہوا، اس کے بعد عرب قوم اپنی کمر ہمت کس لی اور اپنی نظر بلند کرکے بہت دور دوڑائی اور اپنے اس نوزائیدہ بچہ کو
دیکھنے کی کوشش کی جو اس سے آہستہ آہستہ قریب ہو رہا ہے، یہ نوزائیدہ بچہ" نیا اشتراکی عرب انسان" ہے۔