Deobandi Books

بارہ مہینوں کے فضائل و مسائل - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

156 - 192
حضور ﷺ نے فرمایا: صاحبِ قرآن (مراد حافظِ قرآن ہے) کو کہا جائے گا کہ قرآن پڑھ اور اوپر چڑھ (یعنی بہشت کے درجوں پر) اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جیسا کہ تو ٹھہر ٹھہر کر دنیا میں پڑھتا تھا۔ پس تیرا ٹھکانہ وہی ہے جہاں آخری آیت پر تو پہنچے۔ یعنی قرآن کی ایک ایک آیت پڑھتا جا اور جنت کے ایک ایک درجہ کے اوپر چڑھتا چلا جا۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ جنت کے درجات بقدر آیاتِ قرآنیہ کے ہیں، پس اگر صاحبِ قرآن تمام قرآن پڑھے گا تو جنت کے اس آخری درجہ پر پہنچ جائے گا جو اس کے حال کے لائق اور مناسب ہوگا۔ گویا ہر آیت قرآن کریم کی جنت کا ایک درجہ ہے، جتنی آیتوں کی تلاوت کرے گا اتنے درجے جنت کے مل جائیں گے۔
ملا علی قاری ؒ نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ اگر د نیا میں بکثرت تلاوت کرتا رہا تب تو آخرت میں بھی یاد رہے گا ورنہ اس وقت بھول جائے گا اور کچھ نہ پڑھ سکے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرماویں کہ ہم میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کو والدین نے اپنے دینی شوق میں قرآن مجید یاد کرا دیا تھا مگر وہ اپنی لاپرواہی اور بے توجہی سے دنیا ہی میں اس دولت کو ضائع کردیتے ہیں۔ اور جو شخص قرآن پاک کے یاد کرنے اور اس میں محنت و مشقت برداشت کرتا ہوا مر جائے بروئے حدیث وہ بھی حفاظ کی جماعت میں شمار کرلیا جائے گا۔ 
ایک حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جس شخص کو قرآن کریم میری یاد اور مانگنے سے باز رکھے (یعنی جس کو قرآن یاد کرنے اور معانی سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں قرآن کے سوا ذکر و دعا کرنے کا موقع نہیں ملتا) تو میں اس کو مانگنے والوں سے بہتر دیتا ہوں۔ اور کلام الٰہی کی بزرگی تمام کلاموں میں ایسی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی بزرگی اس کی تمام مخلوق پر (ایسے ہی جو شخص قرآن مجید کے ساتھ مشغول ہے اس کی فضیلت ان تمام لوگوں پر ہے جو غیر کلام الٰہی میں مشغول ہیں)۔
رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کی کتاب (قرآن کا) ایک حرف پڑھے اس کے واسطے ہر حرف پر ایک نیکی ہے اور ہر نیکی دس نیکی کے برابر ہے (یعنی ہر حرف پر دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں)۔ (پھر فرمایا:) میں یہ نہیں کہتا کہ سارا (الم) ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے اور لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔ یعنی الم کہنے پر تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ کلام پاک کی تلاوت میں ہر ہر حرف پر ایک ایک نیکی شمار کی جاتی ہے اور ہر نیکی پر حق تعالیٰ شانہٗ کی طرف سے دس حصے اجر دینے کا وعدہ ہے اور یہ کم سے کم درجہ ہے اور جس کے لیے چاہتے ہیں اجر زیادہ بڑھا دیتے ہیں۔ ملا علی قاری ؒ ناقل ہیں کہ ابو اُمامہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ قرآن شریف کو حفظ کیا کرو، اس لیے کہ حق تعالیٰ  شانہ اس قلب کو عذاب نہیں فرمائے گا جس میں کلام پاک محفوظ ہو۔1

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 الفضائل والأحکام 1 1
3 السّعي المشکُور 1 2
4 تُحفۂ حنفیہ 1 2
5 إرشاد العباد في عید المیلاد 2 2
6 مسائل وفضائل رمضان المبارک 3 2
13 قسم اوّل کے مُنکرات 16 1
14 تعزیہ بنانا 16 13
15 معازف و مزامیر کا بجانا 16 13
16 مجمع فساق و فجار کا جمع ہونا 17 13
17 نوحہ کرنا 17 13
18 مرثیہ پڑھنا 17 13
19 اکثر موضوع روایت پڑھنا 17 13
20 ان ایّام میں قصداً زینت ترک کرنا 17 13
21 کسی خاص لباس یا کسی خاص رنگ میں اظہارِ غم کرنا 17 13
22 قسم دوم کے منکرات 18 1
23 کھچڑا یا اور کچھ کھانا پکانا 18 22
24 شربت پلانا 18 22
25 شہادت کا قصّہ بیان کرنا 19 22
26 ماہِ صفر کا بیان 20 1
27 اضافہ بر مضمون سابق 21 26
28 ربیع الاوّل اور ربیع الثانی کے افعالِ مروّجہ کا حکم 22 1
29 ربیع الثانی 23 28
30 اوّل:اس عمل کی حقیقت 24 28
31 امر دوم: اس عمل میں عقیدت 24 28
32 امر سوم: اس عمل میں نیت 24 28
33 امر چہارم: اس عمل کی ہیئت 25 28
34 امرپنجم: اس امر میں بعض خواص کی ذلت 25 28
35 رفعِ شبہ 25 28
36 ماہِ رجب کے فضائل اور احکام 26 1
37 رجبی کابیان 28 36
38 ہزاری روزے کابیان 28 36
39 ماہِ شعبان کے متعلق احکام اور فضائل 29 1
40 منکراتِ ماہ ہذا 32 39
41 رمضان شریف اور عیدمبارک کے احکام 35 1
42 ماہِ رمضان کی فضیلت 35 41
43 روزے کے فضائل وآداب 37 41
44 تراویح اور تلاوت قرآن شریف کے فضائل وآداب 38 41
45 شبِ قدر اور اعتکاف کے مسائل 39 41
46 رمضان کے متعلق ضروری اور مختصر ہدایات 40 1
47 صوم 40 46
48 روزہ میں غیبت 41 46
49 سحور 41 46
50 افطار 42 46
51 تراویح 42 46
52 عیدالفطرکے فضائل واحکام 42 1
53 عید الفطرکے دن بارہ ۱۲ چیزیں مسنون ہیں 45 52
54 عید الفطر کی نماز پڑھنے کایہ طریقہ ہے کہ اوّل یوں نیت کرے 45 52
55 تنبیہ اوّل 46 52
56 تنبیہ دوم 46 52
57 اضافۂ مفیدہ 46 52
58 زیارتِ حرمین شریفین کی تاکیداور فضیلت 47 1
59 حج کے متعلق چندضروری ہدایات 48 58
60 ایک نہایت ضروری مسئلہ 50 58
61 عشرئہ ذوالحجہ کے احکام 52 1
62 نودن کے روزوں اورشب دسویں تک بیداری کی فضیلت 52 61
63 تکبیرِ تشریق 53 61
65 نماز عیدالاضحی کے احکام 54 1
66 تنبیہ اوّل 54 65
67 تنبیہ دوم 55 65
68 تنبیہ سوم 55 65
69 تنبیہ چہارم 55 65
70 تنبیہ پنجم 55 65
71 تنبیہ ششم 56 65
72 نمازِ عیدین کاطریقہ 56 65
73 پہلی صورت 56 65
74 دوسری صورت 57 65
75 تیسری صورت 57 65
76 چوتھی صورت 57 65
77 چندضروری مسائل 57 65
78 قربانی کی تاکیدوفضیلت 58 65
79 آیاتِ مبارکہ 59 65
80 احادیث 60 65
81 احکامِ قربانی 63 65
82 مسائل محرم الحرام 67 1
83 ماہِ محرم کی تاریخی اہمیت 68 82
84 یومِ عاشورا 69 82
85 دسویں محرم کواپنے اہل وعیال پرفراخی کرنا 70 82
86 ۱۔تعزیہ بنانا 71 82
87 ایک شبہ کاازالہ 72 82
88 ۲۔ معازف ومزامیرڈھول وغیرہ کابجانا اورفساق وفجار کاجمع ہونا 75 82
89 ۳۔ مرثیہ پڑھنا 75 82
90 ۴۔ محرم کے ایام میں قصداً زینت ترک کرنا 75 82
91 ۵۔ کسی خاص لباس یاخاص رنگ وغیرہ کے ذریعہ اظہارِ غم کرنا 76 82
92 ۶۔ حضراتِ اہلِ بیت کی عورتوں کا ذکر برسرِبازار کیا جاتا ہے 76 82
93 ۷۔کھچڑا یا اور کچھ کھانا پکاکر احباب کو یا مساکین کو دینا اس کا ثواب حضرت امام کو پہنچانا 76 82
94 ۸۔شربت پلانا 77 82
95 ۹۔ شہادتِ حسین ؓکا قصہ بیان کرنا 77 82
96 ۱۰۔دسویں محرم کو اہتمام کر کے لازمی طور پر قبور پرپانی چھڑکنا یا مٹی ڈالنا یا گارے سے لیپنا 84 82
98 عید میلاد کی شرعی حیثیت 85 1
99 علامتِ محبت 87 98
100 ذکرکا نیا طریقہ 87 98
101 قرآن کریم سے آں حضرت ﷺ کی ولادتِ مبارکہ پر فرحت و سُرور کا ثبوت 88 98
102 حضور ﷺ کے وجود با جود پر فرحت کس بنا پر ہے 89 98
103 ذکرِ ولادتِ شریفہ اور ذکرِ نبوتِ شریفہ میں بڑا فرق ہے 90 98
104 نبوتِ شریفہ پرولادتِ شریفہ سے زیادہ خوش ہونا چاہیے 90 98
105 قصّۂ ولادت یحییٰ وعیسیٰ ؑ کے قرآن مجید میں مذکورہونے سے استدلال کا جواب 91 98
106 حضورﷺکی ولادتِ شریفہ بطریق متعارف ہونے میں حکمت 91 98
107 اظہارِ خوشی کاصحیح طریقہ 92 98
108 بدعت وسنت کے پہچاننے کاقاعدۂ کلیہ 92 98
109 رسمِ میلاد کی تردید دلائل سے 93 98
110 مُوجِدینِ عید میلاد کے دلائل اور ان کا جواب 95 98
111 اول 96 98
112 دوسرا استدلال 96 98
113 تیسرا استدلال 97 98
114 چوتھا استدلال 98 98
115 پانچواں استدلال 99 98
116 ایک شبہ کا اِزالہ 100 98
117 رسمِ عید میلادپر عقلی کلام 100 98
118 رائے گرامی 102 1
119 تقریظ 103 118
120 تصدیق 104 118
121 مقدمہ 105 118
122 مسائل و فضائل رمضان 108 1
123 فضیلت رمضان المبارک 108 122
124 فضیلتِ صوم 112 122
125 سحری کا بیان 113 122
126 انتباہ 115 122
127 افطاری کا بیان 116 122
128 تعجیل افطار 117 122
129 فائدۂ جلیلہ 119 122
130 تحقیق 130 122
131 تنبیہ 130 122
132 ایک استدلال پر نظر 131 122
133 افادہ 133 122
134 انتباہ 137 122
135 نمازِ تراویح کا بیان 140 122
136 شبینہ 146 122
137 فضیلت قرآن 148 122
138 سربر آورد گانِ قوم کی خدمت میں التماس 160 122
139 فضیلت شبِ قدر 161 1
140 فضیلتِ اعتکاف 165 139
141 مسائلِ اعتکاف 166 139
142 مسئلۂ انجکشن دَرحالتِ صوم 170 139
143 عیدالفطر اور صدقۃ الفطر 173 1
144 عیدین کے احکام 174 143
145 عید کی سنتیں 175 143
146 عیدین کی نماز کے احکام 176 143
147 نماز کاطریقہ 177 143
148 عذر کی مثالیں 178 143
149 صدقۂ فطر کے احکام 179 143
150 وقت وجوبِ صدقہ 179 143
151 صدقۂ واجب کی مقدار 180 143
152 صدقہ کے مستحق 180 143
153 احکامِ عیدالاضحی 181 1
154 قربانی کے احکام 181 153
155 قربانی کا وقت 182 153
156 قربانی کا جانور 183 153
157 قربانی کی عمر 183 153
158 قربانی کے عیب 186 153
159 مسائلِ ذبح 187 153
160 قربانی کا گوشت اور کھال 188 153
161 قربانی کی قضا 189 153
162 عشرۂ ذوالحجہ کے متفرق مسائل 190 153
163 تکبیرِ تشریق 191 153
Flag Counter