اوّل… ’’انی عبداﷲ‘‘ میں مشرکین کی کھلی تردید فرمائی گئی ہے کہ میں اﷲ کا بندہ ہوں۔ خود اﷲ یا اس کا ہمسر نہیں ہوں۔ مجھے حکم ہوا ہے کہ ساری دنیاکے لئے اعلان کردوں کہ ’’انما انا بشر مثلکم‘‘ پیدائش انسان کے لحاظ سے میں بھی تمہاری ہی طرح پیدا ہوا ہوں۔ کھاتا اور پیتا ہوں، رنج وغم سہتا ہوں۔ بھوک وپیاس مجھے بھی لگتی ہے اور دیگر دنیاوی ضروریات میں بھی تمہاری طرح پوری کرتا ہوں۔
مگر فرق یہ ہے کہ میں صاحب وحی ہوں اور تمام جہان سے افضل وبزرگ اورتمام انبیاء وامتوں کا سردار ہوں۔ ایک طرف ترازو میں مجھے بٹھا دیا جائے اور ایک طرف (صرف اﷲ کی ہستی کو چھوڑ کر) تمام امتیوں اور کل بنی آدم کو رکھ دیا جائے۔ تو یقینا محمدی پلڑہ بھاری رہے گا۔
نتیجہ
مندرجہ بالا عبارت کو مدنظر رکھ کر سوچئے اور انصاف سے کام لیجئے کہ جو لوگ نبی کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کو بشر نہیں مانتے بلکہ ’’نعوذ باﷲ‘‘ خدا جیسا خیال کرتے ہیں۔ ان کی تردید کتنے کھلے الفاظ میں ہورہی ہے۔ حالانکہ خود (وہ) التحیات میں ’’عبدہ ورسولہ‘‘ اور کلمہ شہادت میں ’’محمد اعبدہ ورسولہ‘‘ پڑھتے ہیں۔ ان عقل کے اندھوں سے کوئی پوچھے کہ کبھی کوئی نوری ہستی کھاپی سکتی ہے؟ شکم مادر میں رہ کر انسانی جسم سے غذا حاصل کرکے وقت مقررہ پر پیدا ہوسکتی ہے؟
جناب من!
۱… اگر آپﷺ انسان نہ ہوتے تو جنابﷺ کا شکم مبارک چاک نہ کیا جاتا۔ اور خواہشات اور دیگر لوازمات انسانی سے پاک صاف کرکے فرشتے کے ذریعے ایمان دوحکمت سے لبریز نہ کیا جاتا۔
۲… اﷲ کے خاص الخاص بندے تھے۔ آپ تمام انبیاء سے افضل اور بہتر ہیں اور ساری کائنات سے بھی۔ یہ اﷲ کا فضل ہے۔ جو محمدﷺ کو عنایت فرمایا گیا۔
دوم… لفظ خاتم النّبیین نے ثابت کردیا کہ میں عبداﷲ کا بیٹا عبداﷲ ہوں پھر بھی تمام انبیاء کی شریعت کا نچوڑ لے کر اور سارے نبیوں کے آخر توحید وسنت کا مشرق سے مغرب تک شمال سے جنوب تک، صرف میں ہی تقسیم کے لئے مقرر ہوا ہوں۔ زمین وآسمان، شمس وقمر وغیرہ کی موجودگی میں کسی کی بھی تاب نہیں جو نبوت محمدی پر ڈاکہ مارے اور کامیاب ہو۔