کر چور دروازے سے سیاسی اقتدار، دنیوی غلبہ اور جماعتی تفوق حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ کسی مذہبی تحریک یا اس سے پیدا شدہ مذہبی جماعت کو حکومت کی طرف سے جو حمایت حاصل ہوتی ہے وہ ہمیشہ اس حد تک ہوتی ہے جس حد تک وہ مذہبی جماعت اپنے آپ کو خالصتاً مذہبی مشن کے دائرہ کے اندر محدود رکھتی ہے اور سیاسی امور سے مجتنب رہتی ہے۔ لیکن یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ مرزامحمود احمد کی گندی سیاست کا سب سے گھناؤنا پہلو یہ ہے کہ انہوں نے حکومت کے خواب دیکھنے شروع کر دئیے اور ایک روحانی اور مذہبی نظام کو جو اشاعت اسلام کے لئے قائم کیاگیا تھا اور جس کی غایت الغایات معاشرے میں پاکیزہ اخلاق پیدا کرنا تھی اس کو اپنے سیاسی عزائم کے تابع کر دیا اور وہ جماعت جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا عہد کر چکی تھی محض تابع مہمل ہوکر رہ گئی۔ خلیفہ کی یہ خواب کاری برطانوی سنگینوں کے سائے میں خوب پروان چڑھی۔ کیونکہ سفید فام آقاؤں کا یہی منشا تھا کہ خلیفہ پادر ہوا منصوبوں میں خود بھی مستغرق رہے اور جماعت کے عقول وقلوب کو بھی اس میں الجھائے رکھے اور اس طرح اپنے اصلی اور صحیح مشن سے غافل ہوکر جماعت میں روحانی توانائی نہ پیدا کر سکے۔ ایک عرصے تک یہی کیفیت رہی۔ لیکن قادیان میں ہی رفتہ رفتہ ایسی صورت بروئے کار آگئی کہ برطانوی حکومت کو بھی احساس ہوا کہ اس کا قانون وہاں بالکل بے کار ہوچکا ہے۔ وہاں قتل ہوتے ہیں ان کا سراغ بھی مل جاتا ہے۔ لیکن عدالت میں آکر پولیس ناکام ہوجاتی ہے۔ اس سے انگریز کی حکومتی غیرت پر تازیانہ لگا اور اس نے اس متوازی حکومت کے خلاف اقدام شروع کر دیا۔ اس کا پہلا سراغ مسٹر جی۔ڈی کھوسلہ کے فیصلہ میں ملتا ہے۔ فاضل جج نے اپنے فیصلے میں مرزامحمود احمد کی ان جارحانہ کارروائیوں کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے مولوی عبدالکریم (مباہلہ) کے خلاف کیں۔ کس طرح ان کے خطبے کے نتیجے میں مولوی صاحب مذکور پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ لیکن ان کا ایک مددگار محمد حسین قتل ہوگیا۔ جب قادیانی قاتل عدالت کے فیصلے کے بعد پھانسی پاگیا تو اس کی لاش کو بڑے تزک واحتشام کے ساتھ قادیان کے بہشتی مقبرے میں دفن کیاگیا۔ اس فیصلے میں محمد امین کے قتل کا بھی ذکر ہے اور فاضل جج نے لکھا ہے کہ محمد امین موردعتاب ہوکر کلہاڑی کے وار سے قتل ہوا۔ اس کے قاتل فتح محمد نے اقرار کیا کہ اس نے قتل کیا ہے۔ لیکن پولیس کارروائی کرنے سے قاصر رہی۔ فیصلہ مذکور میں مرقوم ہے کہ: ’’مرزائی طاقت اتنی بڑھ گئی تھی کہ کوئی سامنے آکر سچ بولنے کے لئے تیار نہ تھا۔ ہمارے سامنے عبدالکریم کے مکان کا واقعہ بھی ہے۔ عبدالکریم کو قادیان سے نکالنے کے بعد اس کا مکان جلادیا گیا۔ اسے قادیان کی سمال ٹاؤن کمیٹی سے حکم حاصل کر کے نیم قانونی طریقے سے گرانے کی کوشش بھی کی گئی۔ یہ