۱۰… مہدویہ کے نزدیک بعض صفات الوہیت میں حق تعالیٰ کے شریک ہیں۔ چنانچہ ان کی کتاب ’’شواہد الولایت‘‘ کے اکتیسویں باب میں لکھا ہے کہ مہدی علیہ السلام (جونپوری) نے فرمایا کہ مجھے جملہ موجودات کے احوال اس طرح معلوم ہیں جس طرح صراف سونے چاندی کو ہاتھ میں لے کر ہر طرف پھراتا ہے اور کماہو حقہ پہچانتا ہے۔
۱۱… مہدویہ کی کتاب پنج فضائل میں لکھا ہے کہ سید جونپوری نے اپنے خلیفہ میاں دلاور کے حق میں فرمایا کہ میاں دلاور پر عرش سے تحت الثری تک ہرچیز اس طرح روشن ہے جس طرح ہاتھ میں رائی کا دانہ ہو۔
۱۲… مہدویہ کے زعم بیہودہ میں مہدی جونپوری کے اصحاب کا درجہ محمد رسول اﷲ(ﷺ) کے برابر ہے۔ چنانچہ کتاب ’’شواہد الولایت‘‘ کے اکتیسویں باب کی سینتیسویں خصوصیت میں لکھا ہے کہ جناب رسالت مآب نے مہدی کے اصحاب کا مرتبہ اپنے مرتبے کے برابر فرمایا ہے اور کتاب ’’پنج فضائل‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک روز میاں عبدالرحمن نے یہ حدیث پڑھی کہ رسول خداﷺ نے فرمایا کہ مہدی کے اصحاب میرے بھائی اور مرتبہ میں میرے برابر ہیں۔ شاہ نظام مہدوی نے سن کر کہا کہ یہ صفت عوام اصحاب مہدی کی ہے۔ بڑے اصحاب کا مرتبہ اس سے بھی اور آگے ہے۔
۱۳… کتاب پنج فضائل میں لکھا ہے کہ ایک دن سب مہدوی صف بستہ بیٹھے تھے۔ جونپوری کے خلیفہ دلاور نے اپنی بیوی خوند بوا سے کہا: دیکھو! یہ وہ لوگ ہیں جو مرسلین کا مقام رکھتے ہیں اور کہا کہ مرسل اسے کہتے ہیں کہ مہتر جبریل اس پر وحی لائیں۔ لیکن بارہ آدمی ان سے بھی فاضل تر ہیں۔
۱۴… مہدوی کتابوں میں لکھا ہے کہ مہدی جونپوری کے نواسے سید محمود بن خوند میر کے ساتھ لڑکپن میں (معاذاﷲ) خدا ہمیشہ کھیلا کرتا تھا۔
۱۵… مہدویہ کی کتاب شواہد الولایت کے آٹھویں باب میں لکھا ہے کہ شیخ مہاجر مہدوی نے مردہ زندہ کیا اور حضرت مہدی موعود (جونپوری) نے اس کو عیسیٰ علیہ السلام کا قائم مقام بتایا۔ مصنف کتاب مذکور لکھتا ہے کہ ذات مہدی کے فیض یاب کو چاہئے کہ مقام عیسیٰ علیہ السلام پر فائز ہونے کے باوجود ’’قم باذن اﷲ‘‘ کہنے سے احتراز کرے۔
(اس فصل کے مندرجات طبقات اکبری، منتخب التواریخ بدایونی اور ہدیہ مہدویہ سے ماخوذ ہیں۔ راجہ دلیپ رائے سے جو لڑائی ہوئی اس کی تفصیل بہت مدت پہلے امرتسر کے ایک اخبار میں شائع ہوئی تھی۔ اغلب ہے کہ مضمون نگار نے کسی مہدوی کتاب سے اخذ کی ہوگی)
مولانا محمد زمان شاہ جہانپوری شہید نے اپنی کتاب ’’ہدیہ مہدویہ‘‘ میں بہت سے اور