معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
ترجمہ:(ہم نے آپ کو خیرکثیرعطاء کی ہے،پس آپ اپنے رب کیلئے نمازپڑھئے اورقربانی کیجئے)
ان آیات کے معانی ومفاہیم میں تدبراورغوروفکرکرنے پرہمیں یہی سبق ملتاہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے اپنے کسی بندے پرانعام واحسان کاتقاضایہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جس قدرانعام واحسان میں اضافہ ہو ٗبندہ بھی اسی قدراپنے مولیٰ اورمنعم ومحسن کے ساتھ وفاداری ٗاحسان مندی اوراس کی عبادت گذاری کااہتمام والتزام کرے،اس کی رضامندی وخوشنودی کے حصول کیلئے ٗنیزاس کی خفگی وناراضگی سے بچنے کیلئے کوشش وجستجومیں مشغول ومنہمک رہے،یہی قرآن کاپیغام ہے اوریہی اہلِ ایمان کی شان ہے۔
جبکہ اس کے برعکس تنگدستی وفقروفاقہ ٗیاکسی مہلک وجان لیوامرض ٗیااورکسی بھی قسم کی آفت ومصیبت میں مبتلاشخص کواگراللہ کے فضل وکرم سے ان مشکلات وآفات سے نجات نصیب ہوجائے ،اورفقروفاقہ کی بجائے خوشحالی وفراوانی اورہرطرح کی آسودگی میسرآجائے ٗایسے میں وہ شخص اپنے منعم ومحسن کاشکرگذاربننے اوراس کی اطاعت شعاری کاراستہ اختیارکرنے کی بجائے اس سے غفلت و اعراض اوراس کی نافرمانی کی راہ اپنالے تویقینایہ بہت بڑی بدنصیبی ہوگی،بلکہ یہ تواپنے خالق ومالک اورمنعم ومحسن کے ساتھ بہت بڑی بیوفائی ٗبلکہ اس سے بھی بڑھ کریہ کہ یہ تو بہت ہی بڑانفاق ہوگا،کیونکہ قرآن کریم میں اس چیزکومنافقین کاشیوہ قراردیاگیاہے۔
چنانچہ ارشادِربانی ہے: {وَمِنھُم مَن عَاھَدَ اللّہَ لَئِن آتَانَا مِن فَضلِہٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَکُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِینَ ، فَلَمَّا آتَاھُم مِن فَضْلِہٖ بَخِلُوا بِہٖ وَ تَوَلَّوا وَھُم مُعْرِضُونَ، فَاَعقَبَھُم نِفَاقاً فِي قُلُوبِھِم اِلیٰ یَومِ یَلقَونَہٗ بِمَا أخْلَفُوا اللّہَ مَا