معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
أمرٍ اِذَا فَعَلتُمُوہُ تَحَابَبتُم؟ أفشُوا السَّلَامَ بَینَکُم) (۱) ترجمہ:(قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے،تم جنت میں داخل نہیں ہوسکتے تاوقتیکہ تم مؤمن نہ بن جاؤ،اورتم مؤمن نہیں بن سکتے تاوقتیکہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کابرتاؤنہ کرنے لگو،کیامیں تمہیں نہ بتادوں ایک ایسی چیزکہ اگرتم اسے اپنالوتوباہم محبت کرنے لگوگے؟آپس میں ایک دوسرے کوزیادہ سے زیادہ سلام کیاکرو)۔٭اپنے ہی مفادات کی بربادی : حاسدانسان معاشرے میں نفرت کے بیج بوتاہے ٗجس کی وجہ سے پورے معاشرے کی بنیادیں کھوکھلی ہونے لگتی ہیں ،اورپھررفتہ رفتہ تمام معاشرہ اورملک زوال وانحطاط کاشکار ہوجاتاہے،لہٰذاحاسدانسان کوغورکرناچاہئے کہ وہ خودبھی تواسی معاشرے کاہی فرداورحصہ ہے کہ جس کی تباہی کاوہ خودسبب بن رہاہے،اورجب وہ معاشرہ اورملک وملت ہی سلامت نہ رہے توپھراس کے بعداس حاسدکوکہاں ٹھکانہ نصیب ہوگا؟لہٰذاحاسدانسان درحقیقت خوداپنے ہی مفادات کادشمن ہے اوراپناہی آشیانہ نذرِآتش کردینے کے درپے ہے۔٭صحت کی بربادی : حاسدانسان دوسروں کی نعمتیں دیکھ کریہ تمناکرتاہے کہ کسی طرح وہ ان نعمتوں سے محروم ہوجائیں۔چونکہ یہ حاسددوسروں کاتوکچھ بگاڑنہیں سکتا ٗ لہٰذاخودہی حسدکی اس آتشِ سوزاں میں ہمیشہ جلتارہتاہے،ہروقت اداس اورپریشان رہتاہے،جس کے لازمی نتیجہ کے طورپروہ متعددجسمانی ونفسیاتی امراض کاشکارہوجاتاہے ، محاورہ مشہورہے: (النّارُ تَأکُلُ ------------------------------ (۱) مسلم[۵۴]باب بیان أنہ لایدخل الجنۃ الاالمؤمنون…،٭ابن حبان[۲۳۶]ابن ماجہ[۶۸][۳۶۹۲] ٭ترمذی[۲۶۸۸]باب ماجاء فی افشاء السلام٭احمد[۱۴۱۲]