معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
’’حسد: بدترین خصلت‘‘ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے بنی نوعِ انسان پریہ احسانِ عظیم ہے کہ اس نے صدیوں سے گمراہی وجہالت کی تاریکیوں میں بھٹکتی اورسسکتی انسانیت کی صلاح وفلاح کی خاطراپنے پیارے اورمحبوب ترین بندے حضرت محمدرسول اللہ ﷺکوبشیرونذیراوررحمۃ للعالمین بناکربھیجا۔ رسول اللہ ﷺکے مقاصدِبعثت میں سے ایک مقصد’’تزکیۂ نفوس‘‘(یا’’اصلاحِ باطن‘‘) بھی ہے۔جیساکہ قرآن کریم میں ارشادہے:{لَقَد مَنَّ اللّہُ عَلیٰ المُؤمِنِینَ اِذ بَعَثَ فِیھِم رَسُولاً مِّن أنفُسِھِم یَتلُوا عَلَیھِم آیَاتَہٖ وَیُزَکِّیھِم وَیُعَلِّمُھُمُ الکِتَابَ وَالحِکمَۃَ وَ اِن کَانُوا مِن قَبلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِینٍ} (۱) ترجمہ:(یقینااللہ نے احسان کیاایمان والوں پر جوبھیجاان میں رسول انہی میں سے ، پڑھتاہے ان پرآیتیں اس کی ٗاورپاک کرتاہے ان کو ٗاورسکھاتاہے ان کوکتاب اورحکمت ، حالانکہ وہ تواس سے قبل صریح گمراہی میں مبتلاتھے) اس آیت میں {وَیُزَکِّیھِم} یعنی: ’’اورپاک کرتاہے ان کو‘‘کی تفسیرمیں ابن کثیررحمہ اللہ فرماتے ہیں:(أي یأمُرُھُم بِالمَعرُوفِ وَ یَنھَاھُم عَنِ المُنکَرِ لِتَزکُوا نُفُوسُھُم وَ تَطھُرمِنَ الدَّنَسِ وَ الخُبث) (۲) یعنی:’’ رسول اللہ ﷺ ایمان والوں کونیکی کاحکم دیتے ہیں اوربرائی سے روکتے ہیں ٗتاکہ ان کے دل ہرقسم کی برائی سے پاک وصاف ہوجائیں ‘‘۔ ------------------------------ (۱)آل عمران[۱۶۴] (۲) تفسیرابن کثیرصفحہ:۴۳۳۔جلد:۱