معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
حالات کاتقاضاہے،بلکہ یہی ہمارے دین کی تعلیم ہے۔ فردقائم ربطِ ملت سے ہے ٗ تنہاکچھ نہیں موج ہے دریامیں اوربیرونِ دریاکچھ نہیں(۴)اسلامی اخوت کی بنیاد :’’ لاالٰہ الااللہ‘‘ ارشادِربانی ہے:{اِنَّمَا المُؤمِنُونَ اِخْوَۃٌ} (۱) ترجمہ:(بے شک تمام مؤمن آپس میں بھائی بھائی ہیں) دینِ اسلام میں لسانی ٗنسلی ٗعلاقائی ٗ یاطبقاتی تقسیم یااونچ نیچ کی قطعاًکوئی گنجائش نہیں ہے، لہٰذااسلام میں لسانی ٗعلاقائی ٗیارنگ ونسل کی بنیادپرکسی گروہ بندی یاکوئی رشتہ استوارکرنے کی اجازت نہیں ہے،کیونکہ اللہ اوراس کے رسول ﷺکے فیصلے کے مطابق حقیقی رشتہ صرف اورصرف ایمان کارشتہ ہے،دنیاکے تمام مسلمان اسی بے مثال اورلازوال رشتے میں منسلک ہیں،رنگ ونسل کے ظاہری فرق کے باوجودوہ سب آپس میں بھائی بھائی اورایک دوسرے کے ہمدردوغمگسارہیں،ان کے اس ایمانی رشتے کی راہ میں جغرافیائی رکاوٹیں اور مشرق ومغرب کے فاصلے حائل نہیں ہوسکتے،ان ظاہری رکاوٹوں ٗدوریوں ٗاورفاصلوں کے باوجودان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں،ان کارب ایک ہے ،رسولؐایک ہے، قرآن ایک ہے،کعبہ ایک ہے،مقصدِحیات ایک ہے،عقیدہ وایمان ایک ہے،اسی لئے اس ایمانی رشتے کے سوادنیاکے باقی تمام رشتے بے کاروبے معنیٰ ہیں۔ رسول اللہﷺکی مبارک مجلس میںجہاں حضرت ابوبکروعمر ٗنیزدیگراکابرصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تشریف فرماہوتے تھے ٗوہاں ان کے درمیان بلال حبشی رضی اللہ عنہ ٗسلمان فارسی رضی اللہ عنہ اورصہیب رومی رضی اللہ عنہ بھی موجودہوتے تھے،رنگ ونسل اورزبان ------------------------------ (۱)الحجرات[۱۰]