معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
’’امانت ودیانت‘‘ اس دنیامیں ہرانسان کی فطری طورپریہی خواہش ہوتی ہے کہ اسے ایسا ماحول اورایسا معاشرہ نصیب ہوسکے جہاں امن وامان ،سکون واطمینان اورمحبت وہمدردی کی فضاہو،اورکسی بھی معاشرے میں اس مقصدکے حصول کیلئے ’’امانت ودیانت ‘‘ بنیادی شرط ہے ۔چنانچہ جس معاشرے سے امانت ودیانت ختم ہوجائے وہاںہرجگہ ناقابلِ اصلاح بگاڑپیداہوجاتاہے، باہمی اعتمادمفقودہوجاتاہے ، امن وامان ، خوشحالی واطمینان کی بجائے وہاں افراتفری ، بے چینی اورلوٹ کھسوٹ کابازارگرم ہوجاتاہے، خواہ کاروباری معاملات ہوں یاگھریلو تعلقات ، ہرجگہ خرابی وبربادی کے آثارنمایاں ہونے لگتے ہیں اوریوںپورامعاشرہ اجتماعی موت کی طرف گامزن ہوجاتاہے۔ اسی لئے اسلام میں ’’امانت ودیانت ‘‘ کی بہت بڑی اہمیت ہے ، اورقرآن وحدیث میں جابجااس کی تاکیدکی گئی ہے ۔ قرآن کریم میں اہلِ ایمان کے اوصاف کے بیان میں ارشادہے {وَالَّذِینَ ہُم لِأمَانَاتِہِم وَعَہدِہِم رَاعُونَ} (۱) ترجمہ :(اورجواپنی امانتوں اوروعدے کی حفاظت کرنے والے ہیں) رسول اللہ ﷺکاارشادہے : (لَااِیمَانَ لِمَن لَاأمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دِینَ لِمَن لاَعَہدَلَہٗ)(۲) ترجمہ:(جس میں امانت نہیں اس میں ایمان نہیں، اورجوکوئی وعدے کاپابندنہیں اس کاکوئی دین نہیں) ------------------------------ (۱) المؤمنون[۸] (۲) احمد[۱۲۴۰۶]