معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
ترجمہ:(حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺکی خدمت میں عرض کیاـ:’’والدین کااپنی اولادپرکیاحق ہے؟‘‘آپؐنے فرمایا:’’وہ دونوں تمہارے لئے جنت ہیں اوروہی دونوں ہی تمہارے لئے دوزخ ہیں‘‘)۔ یعنی انسان کیلئے اس کے والدین کی خوشی جنت میں داخلے کاذریعہ ہے،جبکہ اس کے برعکس ان کی ناراضگی دوزخ میں داخلے کاذریعہ ہے۔ ٭عن أبي ھریرۃ رضي اللّہ عنہ عن النّبيّ ﷺ قال : رَغِمَ أنفُہٗ ، ثُمَّ رَغِمَ أنفُہٗ ، ثُمَّ رَغِمَ أنفُہٗ ، قِیلَ : مَن یَا رَسُولَ اللّہ؟ قال : مَن أدْرَکَ وَالدَیہِ عِندَ الکِبَرِ أو أحَدَھُمَا ثُمَّ لَم یَدخُلِ الجَنّۃَ) (۱) ترجمہ:(حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ ﷺنے فرمایا ـ’’نامرادہو ٗپھرنامرادہو ٗپھرنامرادہو‘‘۔عرض کیاگیاکہ :’’یارسول اللہ!کون نامرادہو؟‘‘۔ فرمایاکہ:’’جس نے اپنے والدین کویاان دونوں میں سے کسی ایک کوبڑھاپے کی حالت میں پایااورپھربھی [انہیں خوش کرکے]جنت میں داخل نہوسکا‘‘)۔ ٭عن عبد اللّہ بن عمر رضي اللّہ عنھما قال : قال رسولُ اللّہ ﷺ : رِضَا اللّہِ فِي رِضَا الوَالِدِ ، وَ سَخَطَ اللّہِ فِي سَخَطِ الوَالِدِ) (۳) ترجمہ:(حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’اللہ کی رضاوالدکی رضامیں ہے اوراللہ کی ناراضگی والدکی ناراضگی میں ہے‘‘)۔٭والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی بدولت ’’فرمانبردار‘‘اولادنصیب ہوگی : عن ابن عمر رضي اللّہ عنھما قال : قال رسولُ اللّہِ ﷺ : بَرُّوا آبائَکُم ------------------------------ (۱)مسلم[۲۵۵۱] (۳) ترمذی[۱۸۹۹]