معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
لیکن اس بارے میںعام مشاہدہ یہ ہے کہ جونہی فقروفاقہ میں مبتلااس انسان کی دعاء وفریادرنگ لاتی ہے ٗاوراسے اللہ کے فضل وکرم اورانعام واحسان کی بدولت خوشحالی وفروانی نصیب ہونے لگتی ہے ٗتواس کے زاویۂ نگاہ ٗاندازِ فکر ٗرہن سہن ٗ نشست وبرخواست ٗ اوررفتاروگفتارمیں خاص قسم کی تبدیلی آجاتی ہے ،اورقابلِ غوربات یہ ہے کہ اس تبدیلی کاسب سے اہم عنصریہ ہوتاہے کہ اب اس کی ہرہرادااورہرنقل وحرکت میں آزادخیالی ٗ شرعی احکام وتعلیمات سے غفلت وروگردانی ٗ نیزاخلاقی حدودوقیودسے دوری وبیزاری کی جھلک نمایاںہونے لگتی ہے،اوروہ بزبانِ حال اس بات کااظہارواعلا ن کرنے لگتاہے کہ اب اس کی نظرمیں شرعی احکام وتعلیمات ٗدینی آداب ٗ اوراخلاقی حدودوقیودکی کوئی اہمیت نہیں ٗاوریہ کہ یہ تمام چیزیں تومحض دقیانوسی اور فرسودہ قسم کے خیالات کامجموعہ ہیں ٗجوکہ صرف پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے فقراء ومساکین کوہی زیب دیتے ہیں ۔
حالانکہ مروت بلکہ ’’وفاداری‘‘کاتقاضاتویقینایہ ہے کہ بندے کیلئے اس کے خالق ومالک کی طرف سے جس قدرنعمتوں اوراحسانات میں اضافہ ہو ٗاسی قدربندے کی طرف سے بھی اپنے خالق ومالک اورمنعم ومحسن کی عبادت وبندگی ٗاس کی اطاعت وفرمانبرداری ٗاوراس کے سامنے عجزوانکسارکے جذبات میں بھی ترقی واضافہ ہوتاچلاجائے،اس مہربان آقاکے سامنے اس کی جبینِ نیازجھکتی چلی جائے،اوراس کی نافرمانی کرتے ہوئے اسے شرم محسوس ہو،نیزیہ خوف دامن گیررہے کہ کہیں ایسانہوکہ اس کی کسی حرکت یالغزش سے ناراض ہوکراس کاوہ منعم ومحسن اپنی عطاء کردہ نعمتیں واپس لے لے… !!
قرآن کریم میں ارشادہے: {اِنّا أعطَینَاکَ الکَوثَرَ ، فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انْحَر} (۱)
------------------------------
(۱) الکوثر[۱۔۲]