معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
٭…اگرکوئی ہوائی جہازکاپائلٹ ہے یاکسی بھی سواری کاڈرائیورہے توتمام مسافراس کے ذمے امانت ہیں اوروہ اللہ کے سامنے ان کے بارے میں جوابدہ ہے۔
٭…اگرکوئی مزدورہے تو مکمل خلوص ٗلگن ٗاورمحنت وجاں فشانی کے ساتھ درست طریقے سے کام کی انجام دہی اس کے ذمے امانت ہے ۔
٭…جبکہ خودیہ مزدوراوراس کی مزدوری اس آجرکے ذمے امانت ہے جس کیلئے یہ مزدورمحنت ومشقت اورمزدوری کررہاہے، رسول اللہ ﷺکاارشادہے:(أَعْطُوا الأجِیرَأجرَہٗ قَبلَ أن یَجِفَّ عَرَقُہٗ)(۱) ترجمہ:(مزدورکواس کاپسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری اداکردو)
٭…اسی طرح اگرکوئی تاجرہے تواس کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی تجارت اورخرید وفرخت میں امانت ودیانت سے کام لے ،ناپ تول نیزوزن اورپیمائش وغیرہ میں کمی بیشی نہ کرے چیزوں میں ملاوٹ نہ کرے ، کسی بیکار اورعیب دارچیزکو خریدارکے سامنے اپنی ہوشیاری اورعیاری سے عمدہ ظاہرکرکے فروخت نہ کرے۔
قرآن کریم میں ارشادہے:{وَیلٌ لِّلمُطَفِفِینَ الَّذِینَ اِذَا اکتَالُوا عَلیٰ النَّاسِ یَستَوفُونَ وَ اِذَا کَالُوہُم أو وَّزَنُوہُم یُخسِرُونَ} (۲) ترجمہ:(بربادی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کیلئے ،کہ جب لوگوں سے ناپ کرلیتے ہیں توپوراپورالیتے ہیں،اورجب انہیں ناپ کریاتول کردیتے ہیں توکم دیتے ہیں)
رسول اللہ ﷺکاارشادہے:(مَن غَشَّنَا فَلَیسَ مِنَّا)(۳) ترجمہ:(جس نے ہمیں دھوکہ دیا[یاملاوٹ کی] وہ ہم میں سے نہیں)۔
------------------------------
(۱) ابن ماجہ[۲۴۴۳] (۲) المطففین[۱۔۲۔۳] (۳)مسلم[۱۰۱]