معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
تعلقات ٗسفارش ٗیارشوت کی بناء پرنااہل اورنالائق افرادکو آگے بڑھانااورترجیح وفوقیت دیناانتہائی بدترین خیانت اورقربِ قیامت کی علامت ہے ،جیساکہ رسول اللہ ﷺ کاارشاد ہے:(اِذا وُسِدَ الأمرُ اِلیٰ غَیرِأہلِہٖ فَانتَظِرِ السَّاعَۃ)(۱) ترجمہ: (جب کوئی کام [یاعہدہ اورمنصب] کسی ایسے شخص کے حوالے کیاجانے لگے جواس کامستحق نہو، تب تم قیامت کاانتظارشروع کردو) نیزارشادِنبویؐ ہے:(کُلُّکُم رَاعٍ وَکُلُّکُم مَسئُولٌ عَن رَعِیَّتِہ(۲) ترجمہ:(تم میں سے ہرشخص نگہبان ہے اورہرایک سے اس کی رعیت کے بارے میںسوال ہوگا) یعنی اس دنیامیں ہرانسان خواہ وہ چھوٹاہویابڑا،امیرہویافقیر،کسی نہ کسی درجے میں نگہبان ہے اوراس کی کچھ ذمے داریاںہیں جن کے بارے میں وہ اللہ کے سامنے جوابدہ ہے ۔ ٭…اگرکوئی کسی ملک یاعلاقے کاحکمران یاسربراہ ہے توتمام رعیت اس کے ذمے امانت ہے اوروہ اللہ کے سامنے اپنی رعیت کے بارے میں جوابدہ ہے ۔ ٭…کوئی کسی ادارے یاکسی دفتریاکمپنی کاسربراہ ہے تووہاں اس کے ماتحت کام کرنے والے تمام افراداس کے ذمے امانت ہیں اوروہ ان سب کے بارے میں اللہ کے سامنے جوابدہ ہے۔ ٭ …درس گاہ یاکلاس میں تمام طلبہ استادکے ذمے امانت ہیں۔ ٭…اگرکوئی ڈاکٹرہے تومریض اس کے ذمے امانت ہیں ، نیزمریضوں کی طرف سے اس کے سامنے بغرضِ علاج ظاہرکئے گئے تمام کوائف وحالات اس کے ذمے امانت اوررازہیں۔ ------------------------------ (۱) بخاری[۵۹]کتاب العلم۔نیز:احمد[۸۷۱۴] (۲) بخاری [۴۸۹۲]