معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
ہدایت حاصل کرسکو)
نیزارشادہے: {وَأَلّفَ بَینَ قُلُوبِھِم لَو أَنفَقتَ مَا فِي الأَرضِ جَمِیعاً مَّا أَلّفتَ بَینَ قُلُوبِھِمْ وَلٰکِنَّ اللّہَ أَلَّفَ بَینَھُمْ اِنَّہٗ عَزِیزٌ حَکِیمٌ} (۱) ترجمہ:(اوراسی[اللہ]نے ان کے دلوں میں باہمی الفت ڈال دی ٗجوکچھ اس زمین میں ہے اگرتووہ ساراکاسارابھی خرچ کرڈالتاتوبھی ان کے دل آپس میں نہ ملاسکتا،یہ تواللہ ہی نے ان میں الفت ڈال دی ہے،بے شک وہ غالب ہے حکمت والاہے)
٭… اورپھریہ کہ اسلام نے باہمی اخوت ومحبت کی محض تاکیدو تلقین پرہی اکتفاء نہیں کیاٗ بلکہ مزیدیہ کہ اس اخوت ومحبت کاعملی سبق حاصل کرنے کی غرض سے اہلِ ایمان کواس بات کاحکم دیاہے کہ روزانہ دن میں پانچ بارمسجدمیں حاضرہوکرباجماعت نمازکی ادائیگی کا اہتمام کریں ٗتاکہ دنیا’’لاالٰہ الااللہ محمدرسول اللہ‘‘کی بنیادپرقائم ہونے والی اس پاکیزہ اور بے مثال اخوت ومحبت کاعملی مظاہرہ دیکھ سکے۔دنیایہ منظردیکھ سکے کہ کس طرح امیروغریب ٗ حاکم ومحکوم ٗ آقااورغلام ٗکالے اورگورے ٗسب ایک ہی کعبے کی طرف رُخ کئے ہوئے ایک ہی امام کی اقتداء میں ایک ہی صف میں کھڑے ہوکرایک ہی رب کے سامنے انتہائی خشوع وخضوع کے عالم میں ’’ایاک نعبدوایاک نستعین‘‘ کااقرارواظہارکرتے ہیں۔
٭… اسی رشتۂ ایمانی کومضبوط ومستحکم بنانے کی غرض سے زکوٰۃ کی ادائیگی کاحکم دیاگیا ، تاکہ اسلامی معاشرے میں امراء وغرباء کے درمیان طبقاتی کشمکش اورباہمی نفرت وعداوت کی بجائے اخوت ومحبت ٗباہمی احترام اورایثاروہمدردی کے جذبات میں ترقی واضافہ ہو ، اوریوں ملتِ اسلامیہ کے امراء وغرباء ایک دوسرے کے دست وبازو بن جائیں۔
------------------------------
(۱)الانفال[۶۳]