معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
پہلے جگہ بنالی ہے اوروہ اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کوکچھ دے دیاجائے اس سے وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے ،بلکہ خوداپنے اوپرانہیں ترجیح دیتے ہیں ٗگوخودکوکتنی ہی سخت حاجت ہو،[بات یہ ہے کہ]جوبھی اپنے نفس کے بخل سے بچایاگیاوہی کامیاب وبامرادہے)
علاوہ ازیں یہ بات بھی قابلِ غورہے کہ اسلام سے قبل مدینہ منورہ میں (جس کانام اُس وقت یثرب تھا) اوس اورخزرج نام کے دومشہورقبیلے آبادتھے،ان دونوں قبیلوں میں عرصۂ درازسے باہم جنگ وجدال اورقتل وخوں ریزی کاسلسلہ چلاآرہاتھا،وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے…!مگرجیسے ہی ان کا شہرمدینہ’’لاالٰہ الااللہ‘‘ کے نورسے جگمگایا اور ان کے دلوں میں ایمان کی شمع روشن ہوئی تووہ صدیوں کے باہمی جنگ وجدال کویکسر فراموش کرکے ایمان کے لازوال اورمقدس رشتے میں منسلک ہوگئے اورباہم شیروشکر ہوگئے،جن کی نفرت وعداوت ضرب المثل تھی ٗاب ان کاباہمی ایثاراورخلوص ضرب المثل بن گیا،اسی حقیقت کی طرف قرآن کریم کی اس آیت میں اشارہ کیاگیاہے:
{وَاذکُرُوا نِعمَتَ اللّہِ عَلَیکُم اِذ کُنتُم أعدَائً فَأَلَّفَ بَینَ قُلُوبِکُم فَأَصبَحتُم بِنِعمَتِہٖ اِخوَاناً ، وَکُنتُم عَلَیٰ شَفَا حُفرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَکُم مِنھَا کَذلِکَ یُبَیِّنُ اللّہُ لَکُم آیَاتِہٖ لَعَلَّکُم تَھتَدُونَ} (۱) ترجمہ:(اوریادکرواللہ کااحسان تم پرجبکہ تھے تم آپس میں دشمن ٗ پھراس [اللہ]نے الفت ڈال دی تمہارے دلوں میں ٗپس تم ہوگئے اس کے فضل سے بھائی بھائی،اورتم آگ کے ایک کنوئیں کے دہانے پرتھے ٗپھراس نے تمہیں بچایااُس سے ،اسی طرح اللہ بیان فرماتاہے تمہارے لئے اپنی آیتیں تاکہ تم
------------------------------
(۱)آل عمران[۱۰۳]