معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
ظاہری قربتوں کے باوجود دلوں میں فاصلے ہوں گے،دوریاں ہوں گی، نفرتیںاوربیزاریاں ہوں گی،ا وروہ ارشادِربانی : {تَحسَبُھُم جَمِیعاً وَّقُلُوبُھُم شَتَّیٰ} (۱) کامصداق بن جائیں گے۔
رسول اللہ ﷺجب اللہ کے حکم سے مکہ مکرمہ سے ہجرت فرماکرمدینہ منورہ تشریف لائے تووہاںآپؐ نے مہاجرین وانصارکے درمیان رشتۂ مؤاخات قائم فرمایا،یہ بات قابلِ غورہے کہ مہاجرین وانصارمیں اس سے قبل بظاہرکسی قسم کاکوئی رشتہ اورتعلق نہیں تھا،وہ آپس میں ایک دوسرے کیلئے اجنبی تھے،لیکن اس کے باوجوداس رشتۂ ایمانی کی بدولت ان میں باہمی اخوت ومحبت کاایسامضبوط تعلق اورمستحکم رشتہ قائم ہوگیاکہ تاریخِ عالم اس کی مثال پیش کرنے سے عاجزوقاصرہے،انصارنے اپنے مہاجربھائیوں کونہ صرف اپنے شہرمیں جگہ دی بلکہ انہیں اپنے مکانوں میں آبادکیا ،انہیں سرآنکھوں پربٹھایا،ان کیلئے اپنے گھروں کے اورساتھ ہی اپنے دلوں کے بھی دروازے کھول دئیے،اپنے مال ودولت ٗزمین اور جائیدادمیں انہیں حصہ داربنایا،یہاں تک کہ مہاجرین کیلئے انصارکی طرف سے اس بے پناہ محبت وہمدردی ٗاورخلوص وایثارکی وجہ سے خالقِ ارض وسماء کی طرف سے قرآن کریم میں انصارکے اعلیٰ اخلاق ٗمہاجرین کے ساتھ حسنِ سلوک اورایثارکی تعریف کی گئی،چنانچہ ارشادِربانی ہے:{وَ الَّذِینَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالاِیمَانَ مِن قَبلِھِم یُحِبُّونَ مَن ھَاجَرَ اِلَیھِم وَ لَایَجِدُونَ فِي صُدُرِھِم حَاجَۃً مِّمَّا أُوتُوا وَیُؤثِرُونَ عَلَیٰ أَنفُسِھِم وَلَوکَانَ بِھِم خَصَاصَۃٌ وَمَن یُّوقَ شُحَّ نَفسِہٖ فَأُولٰئِکَ ھُمُ المُفلِحُونَ} (۲) ترجمہ:(اوروہ جنہوں نے اس گھر[یعنی مدینہ]میں ٗاورایمان میں ان [مہاجرین]سے
------------------------------
(۱)سورۃ الحشر[۱۴]یعنی:’’آپ انہیں متحدسمجھ رہے ہیں ٗحالانکہ ان کے دل دراصل ایک دوسرے سے جداہیں‘‘۔ (۲) الحشر[۹]