معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
کے اس ظاہری فرق کے باوجودان میں باہم کوئی تفریق یااونچ نیچ نہیں تھی،وہ سب آپس میں شیروشکراوربھائی بھائی تھے،دل وجان سے ایک دوسرے کی عزت وتعظیم کرتے تھے،رسول اللہﷺکی مجلس میں وہ سب برابرتھے،ہم مرتبہ اورقابلِ احترام تھے،یہاں تک کہ خالقِ کائنات کی طرف سے ان سب کویکساں طورپرآیتِ قرآنی : {رَضِيَ اللّہُ عنھُم وَرَضُوا عَنہُ} (۱) کے ذریعے دائمی خوشنودی ورضامندی کی خوشخبری سنائی گئی۔
جبکہ اس کے برعکس ابولہب عربی ٗقرشی ٗہاشمی ہونے کے باوجود ٗاعلیٰ حسب ونسب اورخاندانی جاہ وحشمت کے باوجود ٗمال ودولت کی بہتات اورانتہائی حسن وجمال کے باوجود ٗاورسب سے بڑھ کریہ کہ خودرسول اللہ ﷺ سے قرابت داری کے باوجود… وہ جہنمی قرارپایا، قیامت تک اہلِ ایمان قرآن کریم میں موجودیہ آیت پڑھتے رہیں گے:{تَبَّت یَدَا أَبِي لَھَبٍ وَّ تَبَّ مَا أَغنیٰ عَنہُ مَالُہٗ وَ مَا کَسَبَ…} (۲) یعنی:’’ٹوٹ جائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ اوروہ خودبھی ہلاک ہوجائے،نہ تواس کامال اس کے کسی کام آیااورنہ ہی اس کی کمائی…‘‘۔
اللہ کے جلیل القدرپیغمبرحضرت نوح علیہ السلام کابیٹادولتِ ایمانی سے محرومی کے سبب طوفان میں غرق ہوجانے والوں میں شامل تھا،جیساکہ قرآن کریم میں اس بارے میں تفصیلی تذکرہ موجودہے۔(۳)
غرضیکہ اللہ اوررسولﷺ کی نظرمیں اصل رشتہ صرف ایمان کارشتہ ہے ،جس کی بنیادکلمہ: ’’لاالٰہ الااللہ محمدرسول اللہ‘‘ پرہے۔اگریہ رشتۂ ایمانی مضبوط ومستحکم ہوتومشرق ومغرب کے یہ فاصلے مسلمانوں کے دلوں میں کوئی فاصلہ پیدانہیں کرسکتے۔اوراگریہ رشتۂ ایمانی
------------------------------
(۱)المائدۃ[۱۱۹]المجادلۃ[۲۲]البینۃ[۸] (۲)المسد[۱۔۲]
(۳)ملاحظہ ہوسورۃ ہود،آیات[۴۱۔۴۹]