معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
میں اُخوت واتحادکی بہت بڑی اہمیت ہے اوراس جذبۂ اُخوت واتحادکوبرقراراورقائم دائم رکھنے کی بہت زیادہ تاکیدکی گئی ہے۔ خصوصاً جبکہ آج کے اس مہذب دورمیں دنیاکی تمام اقوام وملل پریہ حقیقت منکشف ہوچکی ہے کہ ہرقسم کی ترقی وبہتری اورخوشحالی وآسودگی کیلئے امن وامان ٗ استقرار واستحکام اور اتفاق واتحادانتہائی ناگزیرہے ، اسی لئے آج کے اس جدیدوورمیں فاصلوں کوسمیٹنے اورقربتیں بڑھانے کی بتکلف ہرممکن کوشش کی جارہی ہے،بلکہ اس سلسلے میں مختلف اقوامِ عالم کے درمیان مسابقت زوروں پرہے۔ لہٰذابحیثیت مسلمان ہمیں تواس اتفاق واتحادکوقائم ودائم رکھنے کی اورزیادہ فکراورکوشش وجستجوکرنی چاہئے، کیونکہ یہ چیزتوہمارے دین کاحصہ اورہمارے مذہب کاتقاضاہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان جب متحدتھے اُس وقت وہ دنیاکی سب سے زیادہ باعزت اور کامیاب قوم تھے،وہ ناقابلِ تسخیرقلعے کی مانندتھے،محدودوسائل کے باوجودانہوں نے مشرق ومغرب میں اللہ کانام بلندکیا،حق کابول بالاکیا،فتح ونصرت کے جھنڈے لہرائے، ان کے گھوڑے کبھی دجلہ وفرات ٗکبھی جیحون اورسیحون اورکبھی گنگااورجمناکاپانی پیتے رہے، ہمیشہ ہرمیدان میں کامیابی وکامرانی نے ان کے قدم چومے…!! لیکن اس کے بعدجب ان میں رفتہ رفتہ اتفاق واتحاداوراخلاص وایثارکی بجائے افتراق وانتشاراورخودغرضی ومصلحت پرستی جیسی مذموم خصلتیں پیداہونے لگیں تووہ دیکھتے ہی دیکھتے اپنی تمامترعزت وعظمت سے ہاتھ دھوبیٹھے۔کاش آج ہم نوشتۂ دیوارپڑھ سکیں اوراس بات کوسمجھ سکیں کہ آج ہم مسلمان ذلت ورسوائی کے جس عذاب میں مبتلاہیں اس سے نجات حاصل کرنے کیلئے باہمی اتحادواتفاق ہمارے لئے ناگزیرہے، یہی وقت کی پکارہے ،یہی