معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
زندگی ہو۔اورجب تمام مسلمانوں کانصب العین اورمقصدِ حیات ایک ہوگاتو ان میں باہمی ا فتراق وانتشارکی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی اوراس طرح مسلمان ایک مضبوط اورباوقارملت بن سکیں گے۔
نیزارشادہے: {وَأَطِیعُوا اللّہَ وَرَسُولَہٗ وَ لَاتَنَازَعُوا فَتَفشَلُوا وَتَذھَبَ رِیْحُکُم وَاصبِرُوا اِنَّ اللّہَ مَعَ الصَّابِرِینَ} (۱) ترجمہ:(اطاعت کرواللہ اوراس کے رسول کی،اورآپس میں جھگڑانہ کرو[اگرجھگڑاکروگے تو]تم ناکام ہوجاؤگے اورتمہارا رعب جاتارہے گا۔اورصبرکرو،بے شک اللہ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے)
اس آیت میں اہلِ ایمان کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے یہ حکم دیاگیاہے کہ وہ اپنے باہمی اختلافات اورذاتی مفادات کونظراندازکرکے اللہ اوراس کے رسول ﷺکی اطاعت وفرمانبرداری کواپناشیوہ وشعاربنائیں،ورنہ بصورتِ دیگروہ ٹوٹ پھوٹ کاشکارہوجائیں گے ،ناکامی وبربادی ان کامقدربنے گی،نیزدشمنوں کے دل سے ان کارعب اورخوف جاتارہے گا،کیونکہ دنیاوآخرت میں صلاح وفلاح ٗ عزت وشوکت ٗکامیابی وکامرانی اور ترقی کارازباہمی اخوت ومحبت اوراتفاق واتحادمیں ہی پوشیدہ ہے،جبکہ اس کے برعکس باہمی اختلاف اورافتراق و انتشارمیں ناکامی وبربادی اورذلت ورسوائی کاسامان ہے۔
رسول اللہ ﷺکاارشادہے:(مَثَلُ المُؤمِنِینَ فِي تَوَادِّھِم وَتَرَاحُمِھِم وَتَعَاطُفِھِم مَثَلُ الجَسَدِ الوَاحِدِ اِذَا اشتَکَیٰ مِنہُ عُضوٌ تَدَاعَیٰ لَہُ سَائِرُ الجَسَدِ بِالسَّھرِ وَالحُمَّیٰ) (۲) ترجمہ:(باہمی محبت ومہربانی اورہمدردی کے لحاظ سے مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی مانندہے کہ جب اس[ ایک جسم ]کے کسی عضومیں کوئی تکلیف ہوتی ہے تواس کی
------------------------------
(۱)انفال[۴۶] (۲)بخاری[۵۶۶۵]مسلم[۲۵۸۶]