آپ کی جسمانی یادگار تو صاحبزادے مولانا محمد یوسف صاحب تھے ہی جنھوں نے اپنے والد کے نقش قدم پر چل کر تبلیغ و دعوت کی اس تحریک کو ہندوستان گیر سے عالمگیر بنایا اور دنیا کے ہر ہر خطہ میں پہونچا یا وہ بھی ۱۳۸۵ھ میں اپنے والد ماجد سے جاملے ،روحانی یادگار عالمگیر تحریک تبلیغ ہے،جو اس وقت کروڑوں انسانوں کی فلاح و بہبود کا ذریعہ بنی ہے اور برابر اس میں وسعت پیدا ہوتی جارہی ہے آپ نے اپنے انتقال سے پہلے فرمایا تھا۔
’’لوگ آدمی چھوڑ کرجاتے ہیں میں اپنے پیچھے الحمد ﷲ پورا ملک چھوڑ کر جارہاہوں۔‘‘
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صا حب کاندھلوی دامت برکاتہم(۱)
از
مولانا سید ابو الحسن علی ندوی
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صا حب کاندھلوی دامت برکاتہم و مد فیوضہم ،حضرت مولانا محمدیحیٰ صاحب کاندھلوی کے فرزند ارجمند ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے آپ کو یہ توفیق مرحمت فرمائی کہ اپنے والد ماجد نامدار کے شروع کئے ہوئے کام کو باحسن وجوہ اتمام تک پہنچائیں اپنے شیخ حضرت مولانا خلیل احمد صاحب رحمۃاﷲ علیہ کے علوم و معارف اور ان کی تقریرات کو مرتب و منقح کریں اور اس میں خود اپنی تحقیقات عالیہ اور مطالعہ اور غوروفکر سے نئے اور بیش قیمت مباحث اور مضامین کا اضافہ بھی فرمائیں ۔آج حضرت شیخ کی ذات گرمی برصغیر ہند وپاک میں علم حدیث کا مرکز و مرجع اور سرچشمہ رشدو ہدایت ہے ۔آپ کی وجہ سے اس میں نئی زندگی اور نئی تازگی و رعنائی نظر آتی ہے اور آپ کے بابرکت وجود سے انقطاع الی العلم ،علوہمت،مجاہدہ و ریاضت ،عزیمت و استقامت ،قوت ارادی ،متاع دنیا سے کنارہ کشی و بے رغبتی ،مطالعہ میں استغراق و انہماک ،تصنیف و تالیف اور تعلیم و تدریس کے اشتغال لا یعنی وفضول اور کمتر درجہ کے کاموں سے پرہیز،مکارم اخلاق ،سماحتِ نفس وفراخی قلب کا اعتبار و وقار قائم ہے ،آپ نے جتنے متنوع اوربعض اوقات متضاد کاموں اور مشغولیتوں اور مختلف ذوق رکھنے والے افراد و جماعتوں
(۱) خال مکرم مولونا سیدابوالحسن صاحب ندوی مدظلہ نے حضرت شیخ الحدیث دامت برکاتہم کے حالات مقدمہ ’’اوجزالمسالک ‘‘(عربی) میں تحریر فرمائے ہیں وہ بہت مناسب اور موزوں طرز پر ہیں، یہاں پر بھی وہی حالات پیش کرنا مفید اور مناسب معلوم ہوا، برادر عزیز مولوی سیدمحمدالحسنی مدیرالبعث الاسلامی نے اس کا ترجمہ کردیا ہے اور مولانا مدظلہٗ نے اس پر نظرثانی فرماکر مزید اضافہ فرمادیا ہے ، اب کتاب کواسی مضمون پرختم کیاجارہاہے۔ نفع اللہ بہا المسلمین۔
کویکجا کیا ہے اور ان سب کا جس طرح حق ادا فرماتے ہیں وہ کوئی معمولی درجہ کی بات نہیں ہے۔
یہ عزیمت و جامعیت کا وہ مقام بلند ہے جس کی توفیق تاریخ اسلام کے طویل وقفوں میں مخصوص عالی ہمت اور قدسی نفوس