آگے چل کر ایک منظم اور کامیاب تحریک بن گئی۔
۱۳۴۴ ھ میں علماء و مشائخ کی ایک جماعت کے ساتھ حضرت مولانا خلیل احمد صاحب نوراﷲ مرقدہ میوات تشریف لے گئے شرکاء کا بیان ہے کہ انسانوں کا ایک جنگل تھا جو اس علاقہ میں جمع تھا۔
۱۳۴۴ھ ہی میں اپنے مرشد و شیخ کی معیت میں دوسرا حج کیا حج سے واپسی پر پوری تند ہی سے تبلیغی کام میں لگ گئے اور آپ کی مسلسل کوششوں سے ایسا نظام بنا کہ میوات میں ایک وقت میں گشت ،ایک وقت میں اجتماع ،ایک وقت میں تعلیم عام ہونے لگی اور ہر وقت دعوتی سفر ہونے لگے اور جماعتیں پھر پھر کر تبلیغی کام کرنے لگیں گویا کہ تبلیغی جماعت ایک چلتی پھرتی خانقاہ ،متحرک دینی مدرسہ ،اخلاقی اور دینی تربیت گاہ بن جاتی تھی ۔
۱۳۵۱ ھ میں تیسرا حج فرمایا اور حج سے واپسی پر میوات کے دو دورے کئے جو تبلیغی کام کیلئے انتہائی مفید اور مؤثر ثابت ہوئے پورے میوات میں جماعتوں کا ایک جال بچھا دیا۔
۱۳۵۶ھ میں آپ نے آخری حج کیا اس حج میں جہاز سے لیکر حجاز تک تبلیغ و دعوت کا بڑا چرچا ہوا اہل عرب نے اس کو سنا اور سراہا حج سے واپسی پر اس مبارک کام میں آپ نے اپنی ساری متاع زندگی لگادی،میواتیوں کی جماعیتں مختلف صوبوں اور شہروں میں بھیجیں ،اس کے علاوہ ہندوستان کے مختلف عربی مدارس کے طلباء اور علماء نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنے اپنے مقامات پر کام شروع کیا۔
۱۳۶۰ھ میں قصبہ نوح (میوات)میں ایک بڑا تبلیغی اجتماع کیا میوات کی سرزمین میں اس سے پہلے اتنا بڑا اجتماع نہیں ہوا تھا،یہ انسانوں کا جنگل ایک جلسہ بھی تھا ایک خانقاہ بھی اور ایک مدرسہ بھی اس اجتماع کے بعد میواتی،دہلی کے تاجر مدارس کے علماء کالجوں کے طلباء اور استاذ باہم مل کر جماعتیں بنا بنا کر ہندوستان کے مختلف علاقوں میں پھرنے لگے۔
۱۳۶۲ھ میں آپ ایک بڑی جماعت کے ساتھ لکھنؤ تشریف لائے ۔اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہمان خانہ میں کئی دن قیام فرمایا جس سے لکھنؤ کی فضا دعوت و تبلیغ کی آواز سے گونجھ اٹھی اور سو تا ہوا شہر صدائے ایمان و یقین سے جاگ اٹھا۔
مسلسل دعوت نے پیہم،دوروں نے ،بے انتہا مجاہدوں نے آپ کو بیمار کردیا اور کام کی بیچینی اور مسلسل بیقراری نے اندر اندر آپ کو گھلا دیا ،آپ لاغر ہوئے اور ایسے ہوئے کہ صاحب فراموش ہوگئے،دو آدمیوں کے سہارے جماعت میں شریک ہوتے کبھی کبھی غفلت ہونے لگی اور دورے پڑنے لگے جب بھی ہوش آتا تو دین کی وہی بیقراری سامنے آجاتی ایک بار دو گھنٹے کی غشی طاری ہوئی یکایک آنکھیں کھلیں تو زبان پر یہ کلمات جاری تھے الحق تعلوولا یُعلیٰ پھر ایک وجد کی کیفیت طاری ہوگئی پھر تین دفعہ فرمایا کان حقا علینا نصر المومنین ،پھر کچھ دیر بعد فرمایا کاش علماء اس کام کو سنبھال لیتے اور پھر ہم چلے جاتے۔
زندگی کی آخری شب میں جو ۲۱ِ رجب۱۳۶۳ھ کو تھی اپنے صاحبزادے مولانا محمد یوسف صاحب کو بلایا اور فرمایا یوسف آمل لے ہم تو چلے اور صبح کی آذان سے پہلے جان جاں آفریں کے سپرد کردی۔