{مِنَ الْمُؤْ مِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْامَا عَا ھَدُواﷲَعَلَیْہِ فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلاً }
اٹھارہواں باب
چند خلفاء اور مجازین
۱۔ حضرت مولانا حافظ قمرالدین صاحب سہارنپوری:
سہارنپور میں حضرت سید احمد شہیدؒ کی جماعت کے ایک خاص رکن مولانا سعادت علی صاحب رحمۃ اﷲ علیہ تھے جو بڑے فقیہہ و مفتی اور مدرس تھے ان کا خاص مشغلہ درس و تدریس تھا مولانا حافظ قمر الدین صاحب انھیں بزرگ عالم کے خاص شاگرد تھے ان استاذو شاگرد کے متعلق مولانا محمد زکریا صاحب شیخ الحدیث تحریر فرماتے ہیں۔
’’حضرت مولانا سعادت علی صاحب فقیہہ سہارنپوری جو مسلم الثبوت فقہا میں تھے اپنے دولت کدہ پر قدیم رواج کے موافق شائق طلباء کو پڑھایا کرتے تھے ،مولانا عنایت الٰہی صاحب ،مولانا الحافظ الحاج قمرالدین صاحب جو آج مشائخ وقت میں ہیں اس زمانہ میں حضرت مولانا سعادت علی صاحب کے پاس طالب علمی کے منازل طے کر رہے تھے اور مولانا کے مخصوص تلامذہ میں سے سمجھے جاتے تھے۔‘‘(تاریخ مظاہر اول)
۱۲۸۳ھ میں مولانا سعادت علی صاحب نے عربی مدرسہ کی بنیاد ڈالی اور انبہٹہ سے مولانا سخاوت علی صاحب کو بلا کر اس مدرسہ میں مدرس رکھا ۔مولانا قمرالدین صاحب ان سے نحو میر اور مولانا سعادت علی صاحب سے ان کے گھر پر بعض دوسری کتابیں پڑھتے رہے اور ۱۲۸۷ھ میں اس عربی مدرسہ سے وہ فارغ التحصیل ہوئے اور پھر اسی مدرسہ میں قرآن شریف کے استاذ مقرر کئے گئے اور بعد میں جامع مسجد سہارنپورکی امامت کی ذمہ داری بھی ان کے سپرد کرید گئی جس کو انھوں نے آخر تک نبھایا۔
مولانا کو مدرسہ مظاہر علوم سے قلبی تعلق تھا بلکہ اس کے روح رواں تھے مدرسہ سے ایسا گہرا لگاؤ تھا کہ شہر اور دیہات کا چندہ جمعہ کی نماز کے بعد سے لے کر عصر تک جامع مسجد سہارنپور میں خود وصول فرماتے تھے۔
اﷲ تعالیٰ نے آپ کو ایمان و یقین اور تعلق مع اﷲ کی دولت سے خوب نوازا تھا ،عبادت و ریاضت میں امتیازی شان رکھتے تھے