بزرگوں کوہوئی ہے۔آپ علم و دین کے ایک ایسے ممتاز گھرانہ بلکہ گہوارہ میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے جس کے افراد اور نامور اسلاف عالی ہمتی ،مجاہدہ و ریاضت ،دین پر صلابت ،حفظ قرآن سے شغف اور علوم دینیہ کے ذوق و طلب میں ہمیشہ ممتاز رہے ہیں۔اس زریں سلسلہ کے اولین بزرگوں میں علامہ مفتی الٰہی بخش کاندھلوی (۱۱۵۲ھ۔ ۱۲۴۵ھ)تلمیذ حضرت شاہ عبدالعزیزو خلیفہ حضرت سیداحمد شہیدتھے اور دور آخر کے یادگار بزرگوں میں حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کاندھلوی (بانی جماعت تبلیغ)ہیں،ان کے علاوہ خاندان کے بہت سے دوسرے افراد نے علوم دینیہ کے احیاء دعوت الی اﷲ اور جہاد فی سبیل اﷲ کی شمع روشن رکھی آپ کے جدا مجد مولانا محمد اسماعیل صاحب (م ۱۳۱۵ھ)ان لوگوں میں ہیں جن کے اخلاص ،صلاح و تقویٰ اور زہد و ورع پر سب کا اجماع اور اتفاق ہے۔
آپ کی ولادت ۱۲ِرمضان المبارک ۱۳۱۵ھ کو کاندھلہ میں ہوئی،اور علم و دین کی غذائے لطیف پر آپ کی پرورش ہوئی بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ وہ آپ کی گھٹی میں شامل اور خمیر میں داخل تھا،صلاح و تقویٰ اور عفاف و پاکیزگی کے سایہ میں آپ پروان چڑھے اور نہایت حکیمانہ اور دقیق تربیت و نگرانی میں زندگی کا یہ اہم اور ابتدائی دور گزارا ،بچپن ہی میں آپ گنگوہ بھیج دئے گئے تھے ،جہاں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی (جن کا آپ کے والد ماجد سے خصوصی تعلق تھا )کے سایہ عاطفت اور دامان شفقت میں آپ کا نشو نما ہوا اور آپ انکی گود میں کھیلے اور پلے بڑھے ،آپ نے شعور کی آنکھیں کھولیں تو محبت و شفقت کا یہ ماحول اپنے چاروں طرف پایا،آپ کی عمر آٹھ سال کی ہوئی تو مولانا رشید احمد گنگوہی نے انتقال فرمایا لیکن آپ اٹھارہ سال کی عمر تک گنگوہ ہی میں رہے اور وہ دینی و علمی ماحول آپ کو حاصل رہا جس کی نظیر اس زمانہ میں کسی اور جگہ نہ تھی ،اس ماحول میں ایک طرف اتباع سنت کا بہت احتمام تھا دوسری طرف ملک میں جو فساد اور بگاڑ بڑھ رہا تھا اس سے یہ ماحول دور اور محفوظ تھا ،آپ کے والد ماجد کو آپ کی تربیت کا بڑا خیال تھا،اور وہ آپ کی ہر نقل و حرکت اور چھوٹی بڑی چیز پر پوری نظر رکھتے تھے اور عزیمت کیی سطح سے نیچے آنا آپ کے لئے پسند نہ فرماتے ،اور اسکی کوشش کرتے کہ علم میں انہماک اور بزرگوں کی صحبت میں حاضری اور یکسوئی آپ کو حاصل رہے ،اور لوگوں سے میل جول کم سے کم ہو،آپ کے والد کو تعلیم سے زیادہ آپ کی تربیت کا اہتمام تھا ،اردو فارسی کی ابتدائی کتب آپ نے اپنے عم نامدار مولانا محمد الیاس صاحب سے پڑھیں اور قرآن مجید حفظ کیا۔
۱۳۲۸ھ میں اپنے والد کے ساتھ سہارنپور آگئے جو اس وقت بڑا علمی و دینی مرکز تھا یہاں آپ ہر طرح سے یکسو ہوکر اور جان و دل کے ساتھ حصول علم میں لگ گئے ،آپ نے حدیث اپنے والد صاحب سے شروع کی اور بڑے اہتمام اور تیاریوں سے اس کا آغاز ہوا ،سبق کے ختم پر آپ نے بہت اہتمام سے دیر تک دعا کی اور یہی وہ پہلا دن تھا جب حدیث کا ذوق آپ کے تمام اذواق پر غالب آگیا اور آپ کو سب سے زیادہ دلچسپی اسی سے پیدا ہوگئی،یہاں تک کہ وہ آپ کا شعار اور آپ کے نام کا جز بن گیا اور آخر میں شیخ الحدیث کے نام سے آپ ہر جگہ معروف و مشہور ہوئے۔آپ نے ۱۳۳۳ھ میں صحاح ستّہ (سنن ابن ماجہ کو چھوڑ کر)اپنے والد سے پڑھیں ،پھر ۱۳۳۴ھ میں صحیح بخاری اور ترمذی اپنے استاد اور مرشدومربی حضرت مولانا خلیل احمد ؒ سہارنپوری (جن کا خلیفہ اجل