اب ایک مرزائی ڈاکٹر کا فتویٰ مراقی کے متعلق ملاحظہ فرمائیں: ’’ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ بات ثابت ہو جاوے کہ اس کو ہسٹریا مالیخولیا یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایک ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ وبن سے اکھاڑ دیتی ہے۔‘‘
(مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ئ)
ڈاکٹر صاحب نے خوب کہا۔ واقعی مرزاقادیانی کے مراق نے ان کی صداقت کی عمارت اکھاڑ دی۔ بلکہ کثرت بول کی طوفانی لہروں نے باقی ماندہ آثار بھی مٹا کر برابر کر دئیے۔
مرزاقادیانی کے نیچے کے دھڑ کی کارستانی
’’دوسری بیماری بدن کے نچلے حصہ میں ہے جو مجھے کثرت پیشاب کی مرض ہے۔ جس کو ذیابیطس کہتے ہیں اور معمولی طور پر مجھے ہر روز پیشاب کثرت سے آتا ہے اور پندرہ یا بیس دفعہ نوبت پہنچتی ہے اور بعض اوقات قریب سودفعہ دن رات میں پیشاب آتا ہے اور اس سے بھی ضعف بہت ہو جاتا ہے۔‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۲۰۱، خزائن ج۲۱ ص۳۷۳)
واقعی مرزاقادیانی کی حالت قابل رحم ہے۔ آخر بے چارہ مخالفین کی گالیوں سے تواضع نہ کرے تو کیا کرے۔ جواب صحیح سوچنے کی فرصت کب ملتی تھی کہ کچھ دماغ سے کام لے کر جواب دیتے۔ دماغ کو مراق نامراد نے تباہ کر دیا۔ اور اس پر کثرت پیشاب نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا۔ آخر اس کی بھی تصریح ہونی چاہئے کہ یہ برکات مراق وذیابیطس کب سے نازل ہونے شروع ہوئے۔ لیجئے! اس کی ابتداء بھی مرزاقادیانی نے خود ہی رقم فرمادی ہے۔
’’اور دونوں مرضیں اس زمانہ سے ہیں جس زمانہ سے میں نے اپنا دعویٰ مامور من اﷲ ہونے کا شائع کیا۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۳۰۷، خزائن ج۲۲ ص۳۲۰)
بہت خوب ملہم من اﷲ ہوتے ہی انعام ملا۔ بہت اچھا انعام ملا۔ نہ سر محفوظ نہ دھڑ محفوظ۔ کیا کہنے مرزاقادیانی کے الہام کی برکات کے۔
(ضمیمہ اربعین نمبر۴ ص۴، خزائن ج۱۷ ص۴۷۰،۴۷۱) پر مرزاقادیانی رقم طراز ہیں: ’’میں ایک دائم المرض آدمی ہوں… ہمیشہ درد سر اور دوران بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت سے پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ میرے شامل حال رہتے ہیں۔‘‘