رضا مند نہیں پھر طلاق کیسی اور اس کی رضا مندی کیا معنے رکھتی ہے۔
باب۳۲ سی و دوم
نیچریت، مرزائیت، عیسائیت
چند صاحب… ایک جگہ جمع ہیں۔ اور باہم گفتگو ہو رہی ہے۔
نیچری… مرزا صاحب نے مبعوث ہو کر کیا کیا جو دین اسلام میں انہوں نے تجدید فرمائی وہ تو سرسید بالقابہ کی تجدید ہے یا یہ کہیے۔ ان کا اثر مرزا صاحب نے لیا باقی جو ان کی دعا وی ہیں بے سروپا۔مرزائی… یہ آپ کا دعوے بالکل غلط، سرسید کو قرآن فہمی کا ملکہ اور مادہ ہی کہاں تھا۔ مرزا صاحب نے جو جو نکات معارف قرآن فہمی کے ظاہر فرمائے وہ ایک اعجاز ہے اور اعجاز کے طور پر ارشاد فرمایا ہے۔ سرسید نے اپنی گردن فلسفہ کے آگے جھکا دی۔ اور جو کچھ لکھا فلسفہ کی تابعداری کی ہے اور وہ بالکل ارتداد اور الحاد ہے۔ اب دیکھیے سرسید دعا اس کی اجابت کے قائل نہیں اور قرآن کی اول تعلیم دعا ہے۔ دیکھو قرآن کریم تعلیم کرتا ہے۔ اھدنا الصراط المستقیم اب گویا قرآن سے بالکل انکار ہے۔
نیچری… مرزا صاحب کا فقط دعویٰ ہی دعویٰ ہے اور کچھ بھی نہیں۔ اس میں بالکل شک نہیں۔ کہ مرزائیت سے نیچریت بہتر ہے کیونکہ کسی نیچری نے آج تک نبوت کا دعوے نہیں کیا۔ کیونکہ آج کل نئی تہذیب نئی روشنی اور پھر سائنس اور فلسفہ کی تعلیم کا زور ہے۔ لہٰذا سرسید مرحوم خواب غفلت میں پڑے ہوئے مسلمانوں مغربی تعلیم کو ٹھوکر مار گئے ہیں اور اس لحاظ سے ان کو ایجوکیشن ریفارمر کہنا بے جا نہیں اور اس وقت تقریباً ایک کروڑ مسلمان ان کے پیرو ہیں اور درحقیقت ان کو ریفارمر سمجھتے ہیں۔ مرزا جی کو تمام عمر بھی یہ فروغ نصیب نہ ہوگا۔ ہاں مرنے کے بعد مرزائی لوگ منارہ کی پرستش کیا کریں۔ تو شاید مرزائیت کا چراغ روشن رہے۔
مرزائی… نبوت کا دعوے کوئی یوں ہی کرسکتا ہے۔ مرزا صاحب نے دعویٰ نبوت بلا دلیل اور ثبوت کے نہیں کیا زمین نے گواہی دی آسمان سے نشان ظاہر ہوئے۔ قرآن کریم میں الحمد سے لے کر والناس تک مرزا صاحب کے دعا وی کا ثبوت ہے تمام انبیاء علیہم السلام نے مرزا صاحب کے آنے کی پیش گوئی کی، احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ شاہد ہیں۔ زمانہ کی ضرورت پکار پکار کر مستدعی ہے۔ کہ کوئی مصلح آئے مرزا صاحب کی پیشن گویان گواہی دے رہی ہیں۔ کہ مرزا صاحب نبی اللہ اور رسول اور مامور من اللہ ہیں۔