طرف سے دو خط ہمیں بھی پہنچے۔ جو ایک حکیم صاحب باشندہ لاہور کے ہاتھ سے لکھے ہوئے تھے۔ جن میں انہوں نے اپنی توبہ اور استغفار کا حال لکھا ہے۔ سو ان تمام قرائن کو دیکھ کر ہمیں یقین ہوگیا تھا۔ کہ تاریخ وفات سلطان محمد قائم نہیں رہ سکتی۔ کیونکہ ایسی تاریخیں جو تخویف اور انداز کے نشانوں میں سے ہوتی ہیں۔ ہمیشہ بطور تقدیر معلق کے ہوتی ہیں … جو خوف اور رجوع سے دوسرے وقت پر جا پڑتی ہیں۔ جیسا کہ تمام قرآن اس پر شاہد ہے۔ لیکن نفس اس پیشگوئی کا یعنی اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے۔ جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے لیے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ لا تبدیل لکلمات اللہ یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے۔ تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے۔ سو ان دنوں کے بعد جب خدا تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں کو دیکھے گا کہ سخت ہوگئے ہیں۔ اور انہوں نے اس ڈھیل اور مہلت کا قدر نہ کیا۔ جو چند روز تک ان کو دی گئی تھی۔ تو وہ اپنے پاک کلام کی پیشگوئی پوری کرنے کے لیے متوجہ ہوگا۔ اور اسی طرح کرے گا۔ جیسا کہ اس نے فرمایا کہ: میں اس عورت کو اس کے نکاح کے بعد واپس لائوں گا اور تجھے دوں گا اور میری تقدیر کبھی نہیں بدلے گی۔ اور میرے آگے کوئی بات ان ہونی نہیں۔ اور میں سب روکوں کو اٹھا دوں گا۔ جو اس حکم کے نفاذ میں مانع ہوں۔ اب اس عظیم الشان پیشگوئی سے ظاہر ہے۔ کہ وہ کیا کیا کرے گا۔ اور کون کون سے قہری عذاب دکھلائے گا اور کس کس شخص کو روک کی طرح سمجھ کر اس دنیا سے اٹھائے گا وغیرہ وغیرہ !
(مجموعہ اشتہارات ج اوّل اشتہار نمبر۱۲۳ ص۳۹۶تا۳۹۸)
اس کے بعد جو اس سے انکار کرے۔ ان کو صلواتیں سنا کر ایک لمبی چوڑی تقریر فرمائی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی عبد الجبار صاحب اور مولوی رشید احمد صاحب کو مقابلہ پر پکار کر ایک ڈانٹ بتلائی ہے۔ (از انوار الحق)
معتقدین و خوشامدی… سبحان اللہ! صلی علی کیا کیا نکات فرمائے ہیں۔ جو دل کے اندر ہے اور خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ کے مصداق ہیں۔ وہ کیا خاک سمجھیں گے۔
باب۴۳ چہل و سوم
مولانا محمد حسین بٹالوی کا معرکہ
ہم اپنے ناظرین کو مولانا ابو سعید محمد حسین صاحب کی مجلس وعظ کے کمرہ کی آج پھر سیر کراتے ہیں۔ مولانا ممدوح معہ چند عمائد شہر اور متبحر علماء اور طلبہ معمول کے موافق رونق افروز