مرزائی کہتے ہیں: ’’ہسٹریا تو عورتوں کو ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کا دوسرا نام اختناق الرحم ہے۔‘‘اس کا جواب تو مرزائیوں کو دنیا چاہئے کیونکہ مرزاقادیانی اقراری ہیں۔ ہم کیا کریں۔ لیکن جواب چنداں مشکل بھی نہیں۔
۱… الزامی جواب۔ مرزاقادیانی جب ۱۰ماہ تک حمل کی حالت میں حاملہ بنے رہے تو پھر واضح ہوگیا کہ رحم شریف بھی کہیں ہوگا۔ شاید بعد میں اپریشن کروالیا ہو کیونکہ بچہ حاملہ کے رحم میں ہوتا ہے۔ مرد حامل نہیں ہوسکتا۔
۲… کیونکہ لازم تھا کہ ابن مریم بننے کے لئے کچھ عرصہ ام مسیح بنتے۔ ظاہر ہے کہ ام مسیح عورت ہی تو ہوگی نہ کہ مرد، ورنہ اب مسیح ہونا لازم آئے گا۔ معاملہ زیادہ بگڑ جائے گا۔ (اشارہ کافی)
۳… یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مرزاقادیانی میں نشان کے طور پر رحم فٹ کردیا گیا ہو۔ یہاں تک تو الزامی جواب تھا۔ تحقیقی جواب اگرچہ ہمارے ذمہ نہیں۔ یہ تو مرزائیوں کے ذمہ تھا۔ اپنے مجدد کے لئے ربط اقوال کی تشریح بے صواب کرتے تاہم تحقیقی جواب پہلے ہم مخزن حکمت سے نقل کر آئے ہیں کہ بعض اندرونی اعضاء میں فتور سے مردوں کو بھی یہ بیماری لاحق ہو جاتی ہے۔
اب قادیانیوں کے خلیفہ ثانی کی زبانی سنیں۔
’’ہسٹریا کا بیمار جس کو اختناق الرحم کہتے ہیں۔ چونکہ عام طور پر عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ اسی لئے اس کو رحم کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ورنہ مردوں میں بھی یہ مرض ہوتا ہے۔ جن مردوں کو یہ مرض ہو ان کو مراقی کہتے ہیں۔‘‘
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۸۴، مورخہ ۳۰؍اپریل ۱۹۲۳ئ)
مرزاقادیانی کی عصبی کمزوری
’’حضرت (مرزاقادیانی) صاحب کی تمام تکالیف مثلاً دوراں سر، درد سر، کمی خواب، تشنج دل، بدہضمی، اسہال (یعنی دست) کثرت پیشاب وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا۔‘‘ (رسالہ ریویو قادیان بابت ماہ مئی ۱۹۳۷ئ)
بے شک عصبی کمزوری ہی کی بناء پر مرزاقادیانی کو مراق لاحق ہوگیا تھا اور نبوت بھی اس عصبی کمزوری ومراق نامراد کا کرشمہ تھا۔ کیونکہ مراق کی خصوصیت ہے۔ ایک صاحب علم مراق میں مبتلاء ہوکر نبوت اور خدائی کا دعویٰ کرے۔ ورنہ طب کا اصول ہی باطل ہو جاتا ہے۔ چونکہ طب کی بنیاد تجربہ ہے۔ تجربہ کو جھٹلانا محال ہے۔ ھو المراد!