ہیں؟ مراق کا اثر مریض کے اقوال وافعال وخیالات پر کیا پڑتا ہے؟ اب ہم مرزاقادیانی کے حواریوں بلکہ مرزاقادیانی کی زبانی لکھتے ہیں کہ مرزاقادیانی مرض مراق میں مبتلا تھے اور جو علامات مرزاقادیانی میں پائی جاتی تھیں۔ وہ بالکل مندرجہ بالا علامات سے ملتی جلتی ہیں۔ بلکہ ٹھیک ٹھیک وہی ہیں اور مرزاقادیانی چونکہ حکیم بھی تھے اس لئے علاج بھی وہی کرتے تھے۔ جو بوعلی سینا نے بتلایا ہے۔ مثلاً مشک عنبر، دیگر مقویات ممکن ہے ٹانک وائن بھی۔۱… ’’دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرتﷺ نے پیش گوئی کی تھی۔ جو اس طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر ہے جب اترے گا تو دوزرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔‘‘
(رسالہ تشحیذ الاذہان ماہ جون ۱۹۰۴ء دو اخبار بدر قادیان ج۲ نمبر۳ مورخہ ۷؍جون ۱۹۰۴ئ)
غالباً مرزاقادیانی یہاں بھول گئے ہیں۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا۔ غالباً اسی کا معنی مرزاقادیانی نے کثرت بول لیا ہو۔ کیسی اچھی تاویل کی۔ مرزاقادیانی اس پر جتنا بھی فخر کریں تو پھر بھی کم ہے۔ (مؤلف)
اس عبارت میں مرزاقادیانی نے واضح طور پر اعتراف کیا ہے۔ مجھے مراق کی بیماری ہے۔
۲… ’’ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود سے سنا کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔ لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ میں دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاً کام کرتے کرتے ایک دم ضعف ہوجانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہوجانا، گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا۔ ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دم نکلتا ہے یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا وغیرہ ذالک!‘‘ (سیرۃ المہدی ص۵۵ حصہ دوئم، بروایت نمبر۳۶۹)
مرزاقادیانی کے فرزند کی تصنیف کردہ کتاب میں خود بھی انہوں نے ڈاکٹر صاحب سے مراق اور ہسٹریا کا اقرار مرزاقادیانی کی زبانی نقل کر دیا۔ مگر کوئی تاویل نہ کر سکے۔ بجز اس کے کہ علامات ہسٹریا ومراق تھی۔ یعنی علامات تھی۔ مگر مراق نہ تھا کیا مرزاقادیانی نے جھوٹ کہا؟ حالانکہ ایک ہزار کتاب طب ان کی نظر سے بقول ان کے گزری تھی اور خاندانی حکیم تھے۔