ہے اور جیسا کہ عورت میں رحم کی مشارکت سے مرض اختناق الرحم (ہسٹریا) پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اعضاء اندرونی کے فتور سے ضعف دماغ ہوکر مردوں میں مراق ہوجاتا ہے۔ علامات: مریض ہمیشہ سست ومتفکر رہتا ہے۔ اس میں خودی کے خیالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ ہر ایک بات میں مبالغہ کرتا ہے… بھوک نہیں لگتی۔ کھانا ٹھیک طور پر نہیں ہضم ہوتا۔ (مخزن حکمت ڈاکٹر غلام جیلانی)
شیخ الرئیس حکیم بوعلی سینا کی نظر میں مالیخولیا اور مراق ایک ہے
مالیخولیا اس مرض کو کہتے ہیں جس میں حالت طبعی کے خلاف خیالات وافکار متغیر بخوف وفساد ہوجاتے ہیں۔ اس کا سبب مزاج کا سوداوی ہوجانا ہوتا ہے۔ جس سے روح دماغی اندرونی طور پر متوحش ہوتی ہے اور مریض اس کی ظلمت سے پراگندہ خاطر ہو جاتا ہے یا پھر یہ مرض حرارت جگر کی شدت کی وجہ سے ہوتا ہے اور یہی چیز مراق ہوتی ہے۔ جب اس میں غذا کے فضلات اور آنتوں کے بخارات جمع ہو جاتے ہیں اس کے اخلاط جل کر سودا کی صورت میں تبدیل ہو جاتے ہیں تو ان اعضاء سے سیاہ بخارات اٹھ کر سر کی طرف چڑھتے ہیں۔ اسی کو نفخہ مراقیہ مالیخولیا نافخ اور مالیخولیا مراقیہ کہتے ہیں۔ (ترجمہ از قانون شیخ الرئیس بوعلی سینا فن اوّل از کتاب ثالث)
علاج: عمدہ خون پیدا کرنے والی غذائیں استعمال کرائی جائیں۔ مثلاً مچھلی، پرندوں کا زود ہضم گوشت اور کبھی کبھی سفید ہلکی شراب جو تیز اور پرانی نہ ہو اور عمدہ عمدہ خوشبو میں جیسے مشک، عنبر، نافہ اور عود استعمال کرائیں۔ نیز فم معدہ کے لئے مقوی جو ارشات کا استعمال کرائیں۔
(بحوالہ مذکور قانون شیخ)
مالیخولیا کی کارستانی
مالیخولیا، خیالات وافکار کے طریق طبعی سے متغیر بخوف وفساد ہو جانے کو کہتے ہیں… بعض مریضوں میں گاہے گاہے یہ فساد اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیب دان سمجھتا ہے اور اکثر ہونے والے امور کی پہلے ہی خبر دے دیتا ہے… اور بعض کو اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔ (شرح اسباب والعلامات امراض راس مالیخولیا)
مریض کے اکثر اوہام اس کام کے متعلق ہوتے ہیں۔ جس میں مریض زمانہ صحت میں مشغول رہا ہو… مثلاً مریض صاحب علم ہو تو پیغمبری اور معجزات وکرامات کا دعویٰ کر دیتا ہے۔ خدائی کی باتیں کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتا ہے۔ (اکسیر اعظم ج۱ ص۱۸۸)
مندرجہ بالا تصریحات سے یہ تو معلوم ہوا کہ مراق کیا ہوتا ہے؟ مراقی کی علامات کیا