حال تھا۔ جب کہ شدت مراق میں کمی واقع ہو جاتی ایک آدھ معقول بات بھی مرزاقادیانی کی زبان سے نکل جاتی تھی۔ مگر جونہی مراق کا دورہ شروع ہوجاتا تو پھر مابدولت عرش سے کم کسی چیز کی خبر نہ لاتے۔
نیز زبان ترجمان الہام سے گالیوں کی بارش برسنی شروع ہو جاتی۔ کوئی طبقہ ایسا نہیں۔ علماء ہوں یا عوام، مسلمان ہوں یا عیسائی، آریہ ہوں یا ہندو جو مرزاقادیانی کی گالیاں سے بچتا۔ البتہ خوف کے وقت مراق بھاگ جاتا ہے۔ اپنی محسن ماوے وملجا گورنمنٹ کا فسرہ برطانیہ کے متعلق کوئی ایسی بات زبان سے نہیں نکلی۔ مرزاقادیانی نہایت درجہ وہمی واقع ہوئے تھے۔ اس لئے فوراً غضبناک ہو جاتے تھے۔ یہ بھی مراق ہی کا اثر تھا۔ کیونکہ علماء طب لکھتے ہیں کہ: ’’مراقی میں اعتدال نہیں ہوتا۔ اگر طبیب یا عالم دینی حیثیت کا مالک ہو اور ہو مراقی تو فوراً نبوت کا دعویٰ کر دیتا ہے۔‘‘
ہم مرزاقادیانی کی زبان سے ثابت کریں گے کہ مرزاقادیانی مراق کے مریض تھے۔ بلکہ خلیفہ ثانی اور مرزاقادیانی کی اہلیہ بھی مراق کے حلقہ بگوش تھے۔
مراق کی تعریف وعلامات
مالیخولیا کی ایک قسم ہے جس کو مراق کہتے ہیں۔ یہ مرض تیز سودا سے جو معدہ میں جمع ہوتا ہے۔ پیداہوتا ہے اور جس عضو میں یہ مادہ جمع ہوجاتا ہے۔ اس سے سیاہ بخارات اٹھ کر دماغ کی طرف چڑھتے ہیں۔
علامات مراق: اس کی علامات یہ ہیں:
۱… ترش دخانی ڈکاریں آنا۔
۲… ضعف معدہ کی وجہ سے کھانے کی لذت کم معلوم ہونا۔
۳… ہاضمہ خراب ہوجانا۔
۴… پیٹ پھولنا۔
۵… پاخانہ پتلا ہونا۔
۶… دھویں جیسے بخارات چڑھتے ہوئے معلوم ہونا۔ (شرح اسباب والعلامات امراض رأس مالیخولیا)
خیال کیا جاتا ہے کہ اس مرض (مراق) کی علامات ظہور فتور قوت حیوانی یا روح حیوانی سے ہوتا ہے۔ جو کہ جگر ومعدے میں ہوتی ہے۔ مگر تحقیقات جدیدہ سے معلوم ہوا ہے کہ مرض عصبی