آخر مرزاطاہر بتلائیں کہ وہ لاہوریوں کو کیوں کافر نہیں کہتے۔ آخر وہ بھی ہماری طرح مرزاقادیانی کو نبی نہیں مانتے اور تمہارے باپ دادا مرزاغلام احمد کا فتویٰ ہے کہ جو مرزاقادیانی کو نبی نہ مانے وہ کافر ہے۔ معلوم ہوا کہ قادیانیوں کا یہ اختلاف سب جنگ زرگری اور نفاق ہے۔ آخر اس کا مطلب کیا ہے کہ لاہوری مرزاقادیانی کو نبی نہ مانیں تو کافر نہیں اور تمام دنیا کے مسلمان مرزاقادیانی کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر اور مرتد ہیں۔ معلوم ہوا کہ قادیانی اور لاہوری درپردہ سب ایک ہیں۔ ’’والکفر ملۃ واحدۃ‘‘
اصل وجہ یہ ہے کہ
جب لاہوری جماعت نے مرزاقادیانی کو مسیح موعود اور مامور من اﷲ مان لیا تو گویا نبی ہی مان لیا۔ بلکہ سب کچھ مان لیا۔ ہمارے نزدیک محمد علی لاہوری منافق تھا۔ مرزامحمود اور طاہر منافق نہیں۔ صاف کہتے ہیں کہ میرا باپ حقیقتاً نبی تھا اور لاہوری جماعت بہ نسبت قادیانی جماعت کے زیادہ خطرناک ہے۔ نفاق کے پردہ میں اپنے کفر کو چھپاتی ہے۔
مرزاقادیانی کے تھیلے میں سب کچھ ہے
مرزاقادیانی کی تصانیف میں سب قسم کی باتیں پائی جاتی ہیں۔ ایمان کی بھی اور کفر کی بھی۔ اسلام اور عیسائیت اور ہندومذہب اور مجوسیت سب کچھ ہے۔ جس وقت جس چیز کی ضرورت ہوئی وہ پیش کر دی جاتی ہے۔ لوگ اس سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ مرزائیوں کا یہی طریقہ ہے۔ جہاں ضرورت پیش آئی وہاں مرزاقادیانی کو مجدد اور ملہم من اﷲ بتادیا اور جہاں کچھ گنجائش ملی وہاں مرزاقادیانی کو ظلی اور بروزی نبی بتلادیا اور جہاں احباب خاص کا مجمع ہوا وہاں مرزاقادیانی کو مستقل اور صاحب شریعت نبی بتلادیا اور دس لاکھ معجزات بتلادئیے اور جہاں ہندوؤں کا مجمع ہوا وہاں مرزاقادیانی کو کرشن بتلادیا۔ کبھی مذکر ہوگئے اور کبھی حاملہ اور حائضہ اور کبھی عاقل اور دانا بن گئے اور کبھی خبطی اور مراقی بن گئے۔
مرزائی دھوکہ
مرزائی دھوکہ دینے کی غرض سے مرزاقادیانی کی وہ عبارتیں پیش کرتے ہیں جن میں ختم نبوت کا اقرار اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جلالت قدر اور عظمت شان کا اعتراف ہے۔ اس قسم کی عبارتیں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں اور وہ عبارتیں جن میں دعوائے نبوت اور حضرات انبیاء کرام کی توہین اور تحقیر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان مطہر میں صریح گالیاں ہیں ان کو